جسارت کے زیر اہتمام مولانا ظفر علی خان کی یاد میں تقریب

168

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان جرأت مند، عاشق رسول، مسلمانوں کے سچے ہمدرد اور صحافی تھے۔ انہوں نے صحافت کو مشن کے طور پر اختیار کیا اور بر صغیر کے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ وہ بہترین ادیب اور شاعر تھے۔ انہوں نے عشق رسول میں ڈوب کر نعت کہی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے روزنامہ جسارت اسلام آباد کے زیر اہتمام مولانا ظفر علی خان کی یاد میں منعقد کی گئی محفل میں کیا، جس میں جسارت کے سی او او سید طاہر اکبر بھی شریک ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات انجینئر افتخار چودھری نے پروگرام کی صدارت کی جب کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر و کالم نگار محمد نواز رضا کے علاوہ معروف دانش ور ڈاکٹر ساجد خاکوانی اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری میاں منیر احمد نے ابتدائی کلمات ادا کیے اور مولانا ظفر علی خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی صحافتی وادبی خدمات کو سراہا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مولانا ظفر علی خان کی پوری جدو جہد شعلہ بیانی اور عملی طور پر قلمی جہاد میں گزری ہے۔ انجینئر افتخار چودھری نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان جیسے کردار آج نہیں مل رہے، جنہوں نے بر صغیر کے مسلمانوں کی قلم کے ذریعے رہنمائی کی۔ آج کی نوجوان نسل جو صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے، اسے مولانا ظفر علی خان جیسے اکابرین کو اپنا ہیرو بنانا چاہیے اور ان کی زندگی کا مطالعہ کرکے اس سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے کہ وہ ریاست مدینہ میں جس طرح کا سماجی اور معاشی نظام تھا، اس جیسا نظام پاکستان میں ہونا چاہیے تاکہ عوام خوش حال ہوسکیں اور حکومت اپنے اس مقصد میں ضرور کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ کی دینی و سماجی رہنمائی کے لیے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ وہ بھی ایک میگزین کے مدیر رہے ہیں، ان کے قلم نے بھی مسلمانوں کی فکری رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیںاس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کاشمیری جیسے صحافتی کرداروں کو یادر کھیں۔ دانشور و ماہر تعلیم ڈاکٹر ساجد خاکوانی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ خود قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی ان کی خدمات اور کردار کی تعریف کی تھی۔ پی ایف یو جے (دستور) کے صدر وکالم نگار اخبار نویس محمد نواز رضا نے کہا کہ انہیں آغا شورش کاشمیری کے ساتھ کام کرنے شرف ملا ہے، اور ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ جرأت مند صحافی تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنی تحریروں، قلم اور شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو جرأت مندانہ زندگی گزارنے کا ڈھب سکھایا۔آزادی کی جنگ اور تحریک پاکستان، سڑکوں جلسہ گاہوں کے ساتھ اخبارات کے صفحات پر بھی لڑی گئی تھی۔ قائد اعظم نے ارشاد فرمایا تھا کہ مجھے ظفر علی خان جیسے ہونہار لوگ مل جائیں تو مسلمانوں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ پارلیمانی رپورٹرز ایسو سی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری میاں منیر احمد نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان جیسے کردار آج ملکی صحافت میں نظر نہیں آتے۔ ہمیں اپنے ان اسلاف سے بہت کچھ سیکھتے ہوئے ان کے علمی و ادبی سرمائے کو اپنانا چاہیے۔