کل کیا ہو؟‬

238

زینب کی شادی ہوئ تو سب ہی بہت خوش تھے۔کہ اس کی عمر بھی کم تھی تو اس کے شوہر بھی اس سے بس تین سے چار سال ہی بڑے تھے۔شادی کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کے مزاج کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا اور اب ان کی شادی شدہ زندگی خوش و خرم گزر رہی تھی ۔دس سال کہاں گزرے؟؟ پتا ہی نہ چلا تھا۔محسوس ہوتا تھا کہ آنکھ چھپکتے ہی گزر گئےکہ اچانک اس کے شوہر کو ہارٹ فیل ہوا اور وہ اس دنیا ۓ فانی سے رخصت ہوگئے۔جب اس کے شوہر کے انتقال کی خبر سنی تو لگا کہ ہاں “کل کس نے دیکھا”۔نہ جانے اس کے شوہر کو کتنے کام کرنے ہوں گے اگلے چند دنوں میں لیکن۔۔۔۔
راشد صاحب سعودی عرب ایک نجی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز تھے۔معقول آمدنی تھی۔اچھی خاصی گزر بسر ہورہی تھی۔لہٰذا وہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی خریداری کے وقت اچھی ہی چیزوں کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ایک بات اُن کے مزاج کا حصہ تھی کہ جو چیز انھیں پسند آجاتی وہ اسے ضرور حاصل کیا کرتے۔ چاہے اُس کے لیے انھیں اگلی تنخواہ کا انتظار کرنا پڑے۔یا کچھ وقت کے لیے کسی سے قرض لینا پڑے۔ایسے ہی ایک دن وہ ایکیا (ikea (گئے تو وہاں انھیں لائٹوں والی ڈریسنگ ٹیبل نظر آئ جو کہ انھوں نے اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھی تھی۔اور قیمت میں بھی قدرے زیادہ تھی۔یعنی وہ اس وقت اسے خرید نہیں سکتے تھے کہ اتنے پیسے نہیں تھے اُن کے پاس۔
لہذا انھوں نے بچت کرنا شروع کی اور اگلے چار مہینوں بعد وہ اسے خرید چکے تھے۔
ابھی انھیں اس ڈریسنگ ٹیبل کو خریدے بمشکل دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ ایک دن جب وہ دفتر پہنچے تو وہاں سے انھیں لیٹر ملا کہ جس میں لکھا تھا کہ کمپنی کی بدلتی خراب صورت حال کے باعث انھیں نکال دیا گیا ہے۔اور اگلے مہینے سعودی عرب سے ایگزٹ لینا ہوگا۔وہ اس لیٹر کو پکڑے ہوئے تھے اور بس اُن کی آنکھوں میں اس چاہ اور بچت کی کمائ سے خریدی ڈریسنگ ٹیبل سامنے آرہی تھی کہ جسے یا تو انھیں بیچنا تھا اب یا اتنی جلدی میں ایسے ہی چھوڑ کر جانا تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ ہاں “کل کس نے دیکھا”۔