سیالکوٹ ،توہین رسالت کے الزام میں سری لنکن شہری قتل ،لاش نذر آتش ،50 گرفتار ،پاکستان کیلئے شرمناک دن ہے،وزیراعظم

253

سیالکوٹ/لاہور/اسلام آباد/ راولپنڈی/ کولمبو(خبرایجنسیاں+نمائندہ جسارت)سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو ملازمین نے توہین رسالت کے الزام میں تشدد کرکے قتل کرنے کے بعد نعش نذر آتش کردی ۔ مشتعل افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتول نے مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل ملازمین نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی، وزیر آباد روڈ کو بلاک کرکے منیجر کی نعش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگا دی۔ پولیس کی بھاری نفری کئی گھنٹے تاخیر سے وقوع پر پہنچی۔ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث 50 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔مزید برآں تھانہ اگوکی کے علاقہ وزیر آباد روڈ پر پیش آنے والے واقعہ کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔سری لنکا نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام سیالکوٹ واقعے کی تحقیقات کے لیے ضروری کارروائی کریں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔ سری لنکن میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان سوگیشوارہ گونارہ ٹنا نے کہاکہ وزارت خارجہ کو سیالکو ٹ پاکستان میں ایک سری لنکا کے شہری پر مبینہ تشدد اور اس کی لاش کو جلانے کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ادھروزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے آئی جی پنجاب رپورٹ طلب کرلی۔عمران خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ فیکٹری پر حملہ آور سری لنکن منیجر کو زندہ جلانا پاکستان کے لیے شرمناک دن ہے۔انہوںنے اپنے بیان میں کہا کہ میں خود اس کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہوں، اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاریاں جاری ہیں، تمام ذمے داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ صدر مملکت عارف علوی نے اپنے رد عمل میں کہاہے کہ سیالکوٹ واقعہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے ،واقعہ کے بعد وزیر اعظم اور حکومت پاکستان کی جانب سے کیے گئے فوری اقدام کو سراہتا ہوں، یہ واقعہ کسی بھی طرح سے مذہبی نہیں، اسلام ایسا مذہب ہے جس میں پر تشدد رویے کے بجائے امن اور انصاف کا پرچار کیا جاتا ہے۔ادھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں غیر ملکی منیجر کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ جمعہ کو آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ ایسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں۔ انہوںنے ہدایت کی کہ اس گھنائونے جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے ۔