افکار سید ابوالاعلٰی مودودیؒ

215

انسان :انسان، بشر، الناس اور بنی آدم قرآن میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ اولاد آدم کے سوا قرآن مجید کسی انسانی مخلوق کا قطعاً ذکر نہیں کرتا۔ اس کی رو سے نہ کوئی انسان آدم سے پہلے موجود تھا اور نہ آدم کی اولاد کے ما سوا دنیا میں کبھی انسان پایا گیا ہے یا اب پایا جاتا ہے۔ یہ نوع آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی ہی سے پیدا ہوئی ہے اور اس کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے۔
جن :جن ایک دوسری نوع ہے جس کا مادہ تخلیق ہی نوع انسانی سے مختلف ہے۔ نوع انسانی مٹی سے بنی ہے اور نوع جن آگ سے، یا آگ کی پھونک سے۔
جن انسان کی تخلیق سے پہلے موجود تھی۔ اس نوع کے نمائندہ فرد کو نوع انسانی کے پہلے فرد کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس نے انکار کر دیا تھا۔ اس کا استدلال یہ تھا کہ میں من حیث النوع اس سے افضل ہوں کیوں کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے۔
جن ایسی مخلوق ہے جو انسان کو دیکھ سکتی ہے مگر انسان اس کو نہیں دیکھ سکتا۔
مشرکین اپنی جہالت کی بنا پر اس مخلوق (جن) کو خدا کا شریک ٹھہراتے اور اس کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
(ترجمان القرآن، فروری 1962ء)
مہدی موعود :میں نے یہ بات جو کہی ہے کہ مہدی موعود جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ڈاڑھی منڈوائے گا، کوٹ پتلون پہنے گا، اور اپٹوڈیٹ فیشن میں رہے گا۔ بلکہ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ وہ جس زمانے میں بھی پیدا ہوگا، اس زمانے کے علوم سے، حالات سے اور ضروریات سے پوری طرح واقف ہوگا، اپنے زمانے کے مطابق علمی تدابیر اختیار کرے گا اور ان تمام آلات و مسائل سے کام لے گا جو اس کے دور میں سائنٹیفک تحقیقات سے دریافت ہوئے ہوں۔ یہ تو ایک صریح عقلی بات ہے جس کے لیے کسی سے سند کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر نبیؐ اپنے زمانے کی تدابیر مثلاً خندق، دبابہ، منجنیق وغیرہ استعمال فرماتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ کسی دور میں جو شخص حضور اکرمؐ کی جانشینی کا حق ادا کرنے اٹھے گا وہ ٹینک اور ہوائی جہاز سے، سا ئنٹیفک معلومات سے اور اپنے زمانے کے احوال و معاملات سے بے تعلق ہوکر کام کرے گا کسی جماعت کے حصول مقصد اور کسی تحریک کے غلبہ کا فطری راستہ ہی یہی ہے کہ وہ قوت کے تمام جدید ترین وسائل کو قابو میں لائے اور اپنا اثر پھیلانے کے لیے جدید ترین علوم و فنون اور طریقہ ہائے کار کو استعمال کرے۔
دعوئے مہدیت :یہ ارشاد کہ ا س سے شبہ کیا جارہا ہے کہ ’’ تو خود امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرے گا‘‘۔ اس کے جواب میں بجز اس کے میں کچھ عرض نہیں کر سکتا کہ اس قسم کے شبہات کا اظہار کرنا کسی ایسے آدمی کا کام تو نہیں ہوسکتا جو خدا سے ڈرتا ہو، جسے خدا کے سامنے اپنی ذمے داری کا احساس ہو اور جس کو اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت بھی یاد ہو کہ ’’اجتَنِبْوا کَثِی?رًا مِّنَ الظَّنِّ…الخ‘‘ جو حضرات اس قسم کے شبہات کا اظہار کرکے بندگان خدا کو جماعت اسلامی کی دعوت حق سے روکنے کی کوشش فرما رہے ہیں، میں نے ان کو ایک ایسی خطرناک سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے وہ کسی طرح رہائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اور وہ سزا یہ ہے کہ ان شاء اللہ میں ہر قسم کے دعوؤں سے اپنا دامن بچائے ہوئے اپنے خدا کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور پھر دیکھوں گا یہ حضرات خدا کے سامنے اپنے ان شبہات کی اور ان کو بیان کرکر کے لوگوں کو حق سے روکنے کی کیا صفائی پیش کرتے ہیں۔
(ترجمان القرآن، جون1964)