نسلہ ٹاور منہدم کرنے کا فیصلہ عوام کی نظر میں متنازع ہے؟

89

کراچی (تجزیاتی رپورٹ محمد انور) شاہراہ فیصل اور شہید ملت روڈ کے کراچی کے سنگم میں تعمیر کیا گیا، نسلہ ٹاور کا معاملہ شہر کا بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ 11 منزلہ نسلہ ٹاور کوعدالت عظمیٰ نے بم سے اڑا کر گرانے کا حکم دیا تھا، اس فیصلے کے بعد جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔احتجاج کرنے والے حلقوں کی جانب سے یہ درخواست کی جارہی ہے کہ سپریم کورٹ نسلہ ٹاور کو منہدم کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے تو سپریم کورٹ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت دیگر محکموں کے افسران کے خلاف کارروائی بھی کرے۔ انہوں نے واضح طور پر یہ بھی درخواست ہے کہ مذکورہ عمارت کو گرانے سے قبل اس کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے۔ بہرحال عدالت عظمی کے حکم پر نسلہ ٹاور کو گرانے کے حکم پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ عمارت کو گرانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ یقینا قانون کے مطابق ہے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس لیے متنازع بھی ہو گیا ہے، کیوں کہ عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اس پر نظر ثانی کے گزارشات بھی سامنے آئی ہیں۔قوم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس گلزار احمد سے سے یہ سوال پوچھنے پر حق بجانب بھی ہے کہ “کیا محترم چیف جسٹس کی نگاہ میں یہ فیصلہ عوامی ردعمل کے بعد متنازع ہوگیا ہے یا نہیں ؟ تاہم یہی سوال جسارت نے جب سپریم کورٹ کے سابق جسٹس اور سندھ ہائی کورٹ سابق چیف جسٹس ،جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد سے کیا تو ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرناہوتا ہے وہ فیصلے کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھا کرتی کہ “ہوا” کا رخ کس طرف ہے اور عوام کا فیصلے پرردعمل کیا ہوگا؟ تاہم ایک سوال کے جواب جسٹس ریٹائرڈ وجیہ احمد نے وضاحت کی کہ عدالت کے کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی نتیجے لوگوں کا آئندہ کے لائحہ عمل متاثر ہوتا ہے،لیکن ایسے فیصلوں کا مقصد سبق دینا بھی ہوتا ہے کہ آئندہ کوئی بھی خلاف قانون اقدام نہ کرے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت سپریم کورٹ کو پابند کیا گیا ہے کہ لوگوں کے ساتھ کوئی تفریق نہ ہو۔ اس لیے اگر عدالت میں کوئی نشان دہی کرے کہ اس طرح کی غیرقانونی تعمیرات کی جارہی ہے تو عدالت اس کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے گی۔ خیال رہے کہ آباد کے چیرمین محسن شیخانی کا کہنا ہے کہ شہر میں بغیر نقشوں کے عمارتیں بن رہی ہیں، ہم احتجاج بھی نہیں کر سکتے، آج بھی 700 عمارتیں بن رہی ہیں کوئی نہیں پوچھ رہا، کیا بلڈنگ ایک دن میں بنی، اداروں کی ذمے داری نہیں تھی، آباد کا مطالبہ ہے، عمارتوں کی اجازت دینے کے لیے ون ونڈو قائم کی جائے۔محسن شیخانی نے کہا کہ ایک ملک میں دو قانون نہیں ہوتے، بلڈنگ کی تعمیر کے 5 سال بعد آرڈر آتا ہے کہ عمارت توڑ دی جائے، اس صورتِ حال کے بعد لوگ کیسے سرمایہ کاری کریں گے، کمشنر اور پولیس اپنی نوکری بچا رہے ہیں، شہر کو ہم تباہ کر رہے ہیں، ایک عمارت کی تعمیر کے لیے 17 این او سی لینے پڑتے ہیں، عمارت گرانے پر توجہ زیادہ اور معاوضہ دینے پر پر کم ہے۔