مہمانی و میزبانی کے آداب

275

 

اسلام مہمان نوازی کی تعلیم دیتا ہے، آج کل تو ہر جگہ ہوٹل ہیں، آپؐ نے فرمایا: ’جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ (بخاری)
مہمان کے لیے وسعت سے زیادہ تکلف نہ کرے، بلکہ جو کچھ موجود ہو وہ پیش کرے:
سیدنا سلمان فارسیؓ کی روایت ہے: ’’ہمیں رسول اللہؐ نے حکم دیا کہ ہم مہمان کے لیے اس چیز پر تکلف نہ کریں جو ہماے پاس نہ ہو او ر جو کچھ حاضر ہو ہم اسے پیش کریں‘‘۔ (شعب الایمان للبیہقی)
اسی طرح سیدنا شقیقؒ فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی سیدنا سلمان فارسیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے روٹی اور نمک پیش کیا اور کہا کہ اگر نبی پاکؐ تکلف سے منع نہ فرماتے تو میں تمہارے لیے تکلف سے اہتمام کرتا۔ (شعب الایمان للبیہقی)
مہمان کے لیے تکلف کا حکم
مذکورہ احادیث سے مقصود یہ ہے کہ مہمان کے لیے تکلف نہ کرے، بلکہ جو کچھ موجود ہو وہ مہمان کے سامنے پیش کرے، لیکن اس تکلف سے مراد وہ تکلف ہے جو میزبان کے لیے مشقت کا باعث ہو، ایسے تکلف سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے میزبان کو مہمان سے خوشی نہ ہوگی، بلکہ بوجھ محسوس ہو گا۔ (شرح النووی علی الجامع الصحیح لمسلم)
شیخ سعدیؒ کا واقعہ:
حکیم الامتؒ نے شیخ سعدیؒ کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ شیخ سعدیؒ سمرقند میں کسی کے یہاں پہنچے، میزبان نے بہت تکلفات کیے، جب کھانا سامنے آیا تو فرمایا: آہ دعوت شیراز، میزبان نے اور زیادہ تکلف کیا پھر بھی یہی فرمایا، اس نے اپنے دل میں کہا کہ کیا شیراز میں سونا چاندی کھاتے ہیں؟ ایک مرتبہ یہ شخص سعدیؒ کے یہاں مہمان ہوا، پہنچتے ہی ہاتھ دھلوا کر اور جو کچھ دال روٹی تھی لا کر سامنے رکھ دی، وہ سمجھا کہ اس وقت نہیں ملا، شام کو تکلف ہوگا، مگر شام کو بھی وہی، پھر دوسرے دن بھی وہی، آخر اس شخص نے پوچھا حضرت وہ دعوت شیراز کہاں ہے؟ فرمایا: یہی ہے وہ دعوت شیراز، اس نے کہا: اس میں کیا بات ترجیح کی ہے؟ فرمایا: ترجیح یہ ہے کہ اگر تم میرے پاس چار مہینے بھی ٹھہرے رہو تو مجھ پر گرانی نہ ہوگی اور تم چار ہی روز میں دل میں کہنے لگتے کہ خدا کرے جلدی دفع ہو، کہاں سے بلا سر پڑی۔ (ملفوظات حکیم الامت: 2/377)
البتہ اگر میزبان صاحب وسعت ہے اور اس کے لیے تکلف کسی بھی طرح گرانی کا سبب نہیں بنے گا، تو پھر میزبان کا مہمان کے لیے تکلف کرنا بھی سنت ہے۔
امام بخاریؒ نے باب قائم فرمایا: ’’باب الرجل یتکلف الطعام لاخوانہ‘‘
اسی طرح مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ جب آپؐ بھوک کی شدت سے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر وعمرؓ بھی اسی حالت میں تھے، تو یہ حضرات ایک انصاری کے گھر تشریف لائے، انہوں نے سب سے پہلے کھجور کا خوشہ پیش کیا اور پھر ان حضرات کے لیے بکری ذبح کی۔ (مسلم)
علامہ نوویؒ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: مہمان کے لیے ایک تو فوری طور پر کھانے پینے کے لیے جو کچھ میسر ہو وہ پیش کر دے، (جیسے اس حدیث میں صحابی نے کھجور جو کہ موجود تھی پیش کی) اور پھر کھانے کا انتظام ہو، تو باقاعدہ کھانا تیار کرکے اس سے مہمان کا اکرام کرے۔
مفتی محمد شفیعؒ تفسیر قرطبی کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’نہیں ٹھہرے ابراہیم علیہ السلام، مگر صرف اس قدر کہ لے آئے تلا ہوا بچھڑا‘‘۔
اس سے چند باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ مہمان نوازی کے آداب میں یہ ہے کہ مہمان کے آتے ہی جو کچھ کھانے پینے کی چیز میسر ہو اور جلدی سے مہیا ہو سکے وہ لا کررکھے، پھر اگر صاحب وسعت ہے تو مزید مہمانی کا انتظام بعد میں کرے۔ (قرطبی)
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مہمان کے لیے بہت زیادہ تکلفات کی فکر میں نہ پڑے، آسانی سے جو اچھی چیز میسر ہو جائے وہ مہمان کی خدمت میں پیش کر دے، سیدنا ابراہیم کے یہاں گائے بیل رہتے تھے، اس لیے بچھڑا ذبح کرکے فوری طور پر اس کا گوشت تل کر سامنے لا رکھا۔ (قرطبی) (معارف القرآن، سورہ ھود: آیت: 69)
میزبان مہمان کی خدمت خود کرے
میزبان مہمان کی خدمت خود کرے، البتہ اگر مہمان کم ہیں اور میزبان مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھ کر خدمت سر انجام دے سکتا ہے تو پھر مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھ جائے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: اسی طرح میزبان مہمان کو کھانے کا کہے کہ اور کھالو، یہ چیز کھا لو۔ (الفتاوی العالمکیریۃ :5/399)
البتہ میزبان مہمان پر مسلط نہ ہو، بلکہ مہمان کی مرضی اور پسند ناپسند کا بھی خیال رکھا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے جو چیز جتنی چاہے کھائے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں: آج کل کی تہذیب یہ ہے کہ میزبان مہمان پر مسلط ہو جاتا ہے، قبلہ یہ کھائیے، قبلہ وہ کھائیے، اس سے مہمان بالکل منقبض ہو جاتا ہے، ممکن ہے اس کا جی اس وقت ایک چیز کو چاہتا ہو، دوسری کو نہ چاہتا ہو اور اس چیز کو کھائے تو انبساط نہ ہو اور بعض وقت متعدد کھانے اس طرح کھلائے گئے کہ مقدار میں بڑھ گئے اور ہضم نہ ہوئے، آپ کی تو خاطر داری ہوئی اور مہمان کو تکلیف ہوئی، یہ کیا خاطر داری ہے؟ (ملفوظات حکیم الامت: 20/315-314)
مہمان کے لیے اپنے اوراد و وظائف اور نوافل چھوڑ دے
اگر کسی شخص کا کوئی مہمان آجائے تو وہ دو قسم کا ہو گا یا تو اکثر آتا رہتا ہوگا یا کبھی کبھار آتا ہو گا۔
اگر مہمان اکثر آتا رہتا ہو تو پھر یہ شخص اپنے نفلی معمولات کو قضا نہ کرے اور اگر کبھی کھبار آتا ہو تو اپنے معمولات چھوڑ کر مہمان کے ساتھ بیٹھنا بہترہے۔ (فتاوی حقانیہ: 2/253)
فاسق وفاجر کی مہمانی کا حکم:
’’فتاوی محمودیہ‘‘ میں ہے: فاسق وفاجر مہمان کی تعظیم وتکریم کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایسے مہمان میں جب دو حیثیتیں ہوں، ایک مہمان ہونے کی، دوسرے فاسق ہونے کی، تو پہلی حیثیت سے حق مہمانی ادا کیا جائے اور اکرام کیا جائے، دوسری حیثیت کو اس اکرام میں ملحوظ نہ رکھا جائے۔ (فتاوی محمودیہ :18/151)
مہمان کے لیے آداب:
فتاوی عالمگیری میں ہے: مہمان پر چار چیزیں واجب ہیں:
مہمان کو میزبان جہاں بٹھائے وہاں بیٹھے۔ جو کھانا مہمان کے سامنے پیش ہو اس پر راضی ہو۔ میزبان کی اجازت کے بغیر نہ اٹھے۔ اور جب مہمان رخصت ہو تو میزبان کے لیے دعا کرے۔ (الفتاوی العالمگیریہ)
مہمان کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ میزبان سے کسی خاص کھانے وغیرہ کی فرمائش نہ کرے۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: مہمان کی میزبان سے مندرجہ ذیل چیزوں کی فرمائش درست ہے یا نہیں؟ خواہ بے تکلفی ہو یا نہ ہو؟ نمک کم ہے تو مانگ لینا بہتر ہے یا ایسے کھالیوے، مرچ وغیرہ گڑ وغیرہ بھی مانگ سکتا ہے؟
جواب: جہاں ان چیزوں کے مانگنے کا عرف ہو وہاں مانگنے میں مضائقہ نہیں اور بے تکلفی میں مانگنے میں بھی حرج نہیں، صبر کرنا اوّل مقام ہے۔ (فتاوی محمودیہ:18/154-153)
مہمان کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب کھانا کھالے تو برتن بالکل صاف نہ کرے، بلکہ برتن میں کچھ کھانا بچالے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ کھانا کھا لینے کے بعد برتن صاف کرنے کی بابت جو مسنون طریقہ مشہور ہے اور حدیث میں بھی ہے کہ پیالہ صاف کر لینا چاہیے اس کے متعلق ایک تفصیل ہے، وہ یہ کہ یہ اپنے گھر کے لیے ہے اور اگر مہمان ہو تو بہتر یہ ہے کہ کسی قدر کھانا برتن میں چھوڑ دے، تاکہ میزبان یہ نہ سمجھے کہ مہمان نے پیٹ بھر کر نہیں کھایا اور اس کا دل برا ہو، کیوں کہ اگر کسی قدر کھانا بھی برتن میں چھوڑ دیا جاتا ہے تو میزبان سمجھتا ہے کہ مہمان بھوکا نہیں رہا۔ (ملفوظات حکیم الامت :12/203)
یہ اسلام ہے، یہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں باہمی اخوت قائم ہوتی ہے، اس سے آدمی کو روح کی بالیدگی اور خوشی حاصل ہوتی ہے اور جب والدین اس کا اہتمام کریں گے تو یہی چیزیں اولاد کرے گی، ورنہ اگر ہم بیٹے سے یہ کہیں گھنٹی بجنے کے بعد کہ جاکے کہہ دو کہ ابو گھر میں نہیں ہے، آپ مجھے بتائیے کہ ہم اس بچے کو کیا تعلیم دے رہے ہیں؟ اس کو تو ہم خود جھوٹ سکھا رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔