نسلہ ٹاور کیس: چیف جسٹس نے حافظ نعیم کو کمرہ عدالت میں بات کرنے سے روک دیا

326

کراچی: چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کمرہ عدالت میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کو نسلہ ٹاور پر بات کرنے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں نسلہ ٹاور کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو روسٹروم پر آنے کا حکم دیا جس پر حافظ نعیم الرحمان نے کمرہ عدالت میں کھڑے ہوکر نسلہ ٹاور کے متاثرین کے معاوضے کے لیے بات کرنا چاہی۔

چیف جسٹس نے حافظ نعیم کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس کے جواب میں حافظ نعیم نے کہا کہ میں امیر جماعت اسلامی کراچی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ روسٹروم سے ہٹ جائیں، یہاں سیاسی تقریر نہیں کر سکتے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ سر میں نسلہ ٹاور کے متاثرین کے لیے معاوضے کی بات کرنا چاہتا ہوں، معاوضے ادا کیے بغیر ایسا نہیں کرسکتے، سندھ حکومت کو معاوضہ کا آرڈر کردیں۔

پینچ میں شامل جسٹس قاضی امین نے حافظ نعیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے سنا نہیں مائی لارڈ نے کیا کہا ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کو نسلہ ٹاور سے کیا دلچسپی ہے، آپ کو ابھی توہین عدالت کا نوٹس دے دیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے حافظ نعیم سے کہا کہ کورٹ روم میں کسی کو سیاسی بات کی اجازت نہیں ہے، آپ کورٹ روم سے چلے جائیں۔