…تربیتِ اولاد

237

فی زمانہ اولاد کی تربیت سے مشکل مرحلہ کوئی نہیں۔ زمانہ جس تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، ٹیکنالوجی جس رفتار سے اپنا سفر طے کر رہی ہے، صبح وشام نت نئے جینے کے ڈھنگ اور نظرکو خیرہ کردینے والے رنگ وجود پارہے ہیں۔ ایسے میں اولاد کی اسلامی نہج پر تربیت کرنا، ان کے ذہن و فکرکی آب یاری کرنا، ان کے خیالات کی تطہیر کرنا، دل ودماغ کو طاغوتی وساوس سے محفوظ بنانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت ہوجائے تو والدین کی زندگی گلزار ہوجاتی ہے اور اگر ان کی تربیت میں کمی رہ جائے تو یہی اولاد فتنہ وفساد کا باعث بن جاتی ہیں۔
چھوٹی عمر میں بچوں کا ذہن سادہ سی تختی کی مانند ہوتا ہے کہ جس پر جو کچھ لکھ دیا جائے بچے اسی کو پڑھتے، سمجھتے اور اپناتے ہیں۔ ابتدائی سالوں میں سیرتِ رسولؐ سے واقفیت، اسلام کے طریقوں کی معرفت اور صحیح غلط کی پہچان ہوجائے تو زندگی بھر کے لیے وہ ایک مثالی اور قابلِ تقلید کردار کا حامل فرد بن سکتا ہے اور ایسے ہی افراد پھر ایک تربیت یافتہ معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔
خشت اول چون نہدمعمارکج
تا ثریامی رود دیوارکج
اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے گا تو دیوار بلندی تک ٹیڑھی ہی جائے گی
اسی لیے بچپن، لڑکپن اور سنِ بلوغت میں پل پل کی تربیت، لمحے لمحے نیکی کی جانب بچوں کو راغب کرنا، قدم قدم پر موجود برائی کی پہچان اور اس کے سنگین نتائج سے انھیں آگاہ کرنا والدین کی بنیادی ذمے داری ہے۔
ایسے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اولاد کی تربیت میں اعتدال کی راہ شرطِ لازم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اعتدال سے ہٹ کر بے جا سختی کی روش کو اپنایا جائے تو نتیجے میں بچے والدین کے مقابل کھڑے ہوجاتے ہیں اور باغی بن کر والدین کی تمنا کے برعکس برائیوں کے جنگل میں گم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سختی کے مقابلے میں حد سے زیادہ نرمی جہاں ان کی عادات کو خراب کرنے کا باعث ہے وہیں انھیں زندگی میں آگے بڑھنے، نیکی کی جانب راغب ہونے اور بدی کے راستے سے دور ہونے سے روکتی ہے۔ اسی لیے والدین کی بحیثیت سرپرست یہ ذمے داری ہے کہ وہ اولاد کی تربیت کی منظم منصوبہ بندی کرے۔
اپنے بچوں کو اسلامی رنگ ڈھنگ کے ساتھ جینا سکھائیں، اسلامی طرز پر خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کا طریقہ بتلائیں، انھیں زندگی میں آگے بڑھنے کے گُر ضرور بتائیں مگر ساتھ مقصدِ زندگی سے بھی آشنا کردیں۔ تاکہ وہ زندگی کی دوڑ میں سبقت لے جاتے ہوئے کسی کو ضَرر پہنچانے سے باز رہیں، بلکہ لوگوں کا سہارا بننے اور اس کے نتیجے میں خود بھی آگے بڑھنے کا فلسفہ سمجھ لیں۔
نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: کوئی باپ اپنی اولاد کو اچھی تربیت سے بہتر تحفہ نہیں دے سکتا۔ (صحیح بخاری)
اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ فی الوقت لوگوں کی ترجیحات میں تربیت سے کہیں زیادہ یہ بات اہم ہوتی جارہی ہے کہ ہم انھیں اچھا پہنالیں، اچھا کھلالیں، اچھا سائبان مہیا کرلیں۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ اچھا کھلانا، پہنانا، ٹھہرانا بھی والدین کی ذمے داری ہے۔ لیکن اگر یہ سب کچھ مہیا کرنے کے باوجود وہ تربیت پر توجہ نہ دے سکیں تو سمجھنا چاہیے کہ انھوں نے ماں اور باپ ہونے کا اصل حق ادا نہیں کیا۔ اور تربیت نہ ہونے کے نتیجے میں ان کے بچے جن برائیوں کا ارتکاب کریں گے، والدین بھی کسی نہ کسی حد تک قصور وار ہوں گے۔ اسی طرح بچوں کی غلطیوں کی اصلاح تنہائی میں مؤثر ہوتی ہے۔ سب کے سامنے انھیں ان کی غلطیاں بتانا، انھیں ڈانٹنا ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔
تربیتِ اولاد کے سلسلے میں نبی اکرمؐ کی ذات نمونہ عمل ہے۔ عمرو بن ابی سلمہؓ جو کہ بچپن میں نبی اکرمؐ کے زیرِ کفالت پرورش پارہے تھے۔ کھانا کھاتے ہوئے ان کا ہاتھ برتن میں اِدھر اُدھر جارہا تھا، یہ دیکھ کر نبیؐ نے بڑے مشفقانہ انداز میں بغیر ڈانٹ ڈپٹ کیے انھیں سمجھایا۔ اسی طرح انس بن مالکؓ کے ساتھ نبیؐ کے حسنِ سلوک کی مثال موجود ہے جو ایک طویل عرصے تک آپؐ کی خدمت کرتے رہے۔ اسی طرح عبداللہ بن عباسؓ کو اپنے ساتھ سواری پر بٹھاتے اور انھیں پیار بھرے القاب سے پکارتے تھے، حسنین کریمینؓ کے ساتھ نبی مہربانؐ کی محبت وشفقت کے بے شمار واقعات ہیں جو والدین کے لیے اپنی اولاد کی تربیت میں رہنما ثابت ہوسکتے ہیں۔ آپؐ کی حدیث کے مطابق انسان کی جوتین چیزیں اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے کام آتی ہیں ان میں سے ایک نیک اولاد بھی ہے۔
یادرکھیں! اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں، انھیں سینے سے لگائیں، ان کے نفع ونقصان کا خیال رکھیں، انھیں جائز وناجائز امور کی پہچان بتائیں، ان کے مونس وغم خوار بنیں۔ یقین جانیے! اس کے نتیجے میں نہ صرف بچے کی دنیا وآخرت بہتر ہوگی بلکہ والدین کی زندگی راحت وسکینت کے لمحات سے بھر جائے گی اور سب سے بڑھ کر تربیتِ اولاد کے صلے میں رب تعالیٰ اپنی رضا کا پروانہ بھی عطا کریں گے۔