پاکستان کا امریکہ سے بڑا مطالبہ، افغانستان کی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچائیں

119

لندن: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانوں کے 9 ارب ڈالر ریلیز کیے جائیں، افغانستان کی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔

تفصیلات کے مطابق لندن میں عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان امدادی سرگرمیوں کا مرکز بننے کے لیے تیار ہے، افغان عوام کی مدد کے لیے تعاون کریں گےجبکہ برطانیہ بھی طالبان سے رابطہ کرے، وہاں انسانی المیہ جنم لینے کو ہے۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں، مغربی میڈیا چاہے تو آکر دیکھ لے،  مغربی ممالک پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان اکیلے افغان مسئلے کو حل نہیں کر سکتا اور نہ یہ صرف پاکستان کی ذمے داری ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کےمنجمد اکاؤنٹ فوری بحال کرنے کی ضرورت ہے، معاشی ابتری پر قابو پانے کیلئے افغانستان پیسے کواستعمال میں لاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں اقتصادی بحران پیدا ہونے سےتباہی ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی آمد سے پاکستان، ایران اورتاجکستان متاثر ہوں گے اور مہاجرین کی پڑوسی ممالک میں آمد سے خطہ شدید متاثر ہوگا جبکہ پاکستان کےاس حوالےسے تحفظات ہیں، افغانستان میں بحران سے دہشت گرد عناصر کو پنپنے کا موقع ملے گا اور دہشتگردعناصرختم کرنے کیلئے سخت محنت کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہاہے کہ افغانستان میں بحران سے پاکستان بلکہ پورے خطے کوسنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، افغان عوام اپنی پالیسیوں کی تشکیل اورمسائل حل کرنے میں آزاد ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان کو مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے، ہم افغانستان کےاندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، ہم افغانستان میں امن واستحکام چاہتے ہیں اور افغان عوام کا بھی یہی مقصد ہےکہ وہاں امن اور استحکام آئے۔

دوسری جانب وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت کے منفی اور مشکوک کردار کے باعث افغانستان میں امن کاوشوں میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، امید ہے بھارت افغانستان میں اسپائلرکے کردار کو ختم کردے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی اسپائلر کردار کے خاتمے سے سیاسی مفاہمت کا راستہ آسان ہوگا، افغانستان میں بحران سے دہشت گرد عناصر کو پنپنےکا موقع ملے گا۔