جیل سے فرار روکنے کے لیے نیا اسرائیلی منصوبہ

225
نابلس: بیتا قصبے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینی نوجوان کے جنازے میں ہزاروں شہری شریک ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام نے ہفتہ قبل ہائی سیکورٹی جیل سے 6 فلسطینی قیدیوں کے فرار کے پس منظر میں 20لاکھ ڈالر کی لاگت سے جلبوع جیل کی سیکورٹی سسٹم میں بہتری اور اس کے کے انجینئرنگ اسٹرکچر میں تبدیلی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔عبرانی چینل 12 کے مطابق جلبوع جیل میں اسرائیل کی جانب سے اصلاحات اور انجینئرنگ میں ترمیم کا مقصد قیدیوں کو نئی سرنگیں کھودنے اور ان کے ذریعے فرار ہونے سے روکنا ہے۔عبرانی چینل نے مزید کہا کہ جلبوع جیل کے کمروں کے نیچے خالی جگہوں پر کنکریٹ کوبھرا جائے گا۔ 6فلسطینی قیدیوں کے اس جیل سے فرار کے بعد اسرائیلی فوج کی نگرانی میں انجینئرنگ ٹیموں نے جیل کی بنیادیوں تلے ایسے خالی مقامات کا معاینہ کیا جنہیں ممکنہ طور پر سرنگوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ 6 ستمبر 2021ء کو انتہائی سیکورٹی کی حامل جلبوع جیل سے 6 فلسطینی قیدی فرار ہوگئے تھے۔ انہوں نے جیل کے فرش کے نیچے سرنگ کھودی جس کی مدد سے وہ فرار ہوئے، تاہم انہیں چند روز بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔جیل کے ڈھانچے میں ترمیم کے منصوبے میں اس کے ارد گرد ایک اضافی دیوار بنانا اور فرار کی کسی بھی نئی کوششوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے نظام کی تنصیب بھی شامل ہے۔ فرار کے نئے طریقے ہیں، مگر اصل آزمایش یہ ہے کہ قبل ہی ان کا پتا کیسے چلایا جائے اور فرار کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔