افغان حکومت تسلیم کریں

98

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر افغانستان کو ’تنہا نہ چھوڑنے‘ اور عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ 40 سال سے جاری اس جنگ کے خاتمے کا یہ نادر موقع ہے۔ جمعہ کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات اور افغانستان کی حالیہ صورت حال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا: ’’حالیہ واقعات کے پیش نظر افغانستان ہماری توجہ کا مرکز ہے۔ گزشتہ (اشرف غنی) حکومت کی اچانک تبدیلی، جس نے سب کو حیران کردیا تھا، طالبان کے ملک پر کنٹرول، اور غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا افغانستان میں ایک نئی حقیقت قائم کرچکا ہے، یہ سب کچھ خونریزی، خانہ جنگی اور پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کے بغیر ہونا باعث ِ اطمینان ہے۔ اب اس بات کو یقینی بنانا عالمی برادری کے اجتماعی مفاد میں ہے کہ افغانستان میں کوئی نیا تنازع نہ ہو، اور سیکورٹی کی صورت حال مستحکم ہو‘‘۔ اشرف غنی کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا: ’’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سابق حکومت غیر ملکی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھی، جسے ختم کرنا معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ افغان عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے کا لمحہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں عالمی برادری کا مثبت کردار انتہائی اہم ہے‘‘۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا اور درست کہا کہ بھارت کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس نازک موڑ پر منفی باتیں پھیلانا، یا شرارتی پروپیگنڈے میں ملوث ہونا چھوڑ دے جیسا کہ اْس کے کچھ شرپسندوں نے کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ صرف امن کے امکانات کو کمزور کرنے کا کام کرے گا اور اس سے افغان عوام کو نقصان پہنچے گا۔ افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ ملک اپنی خودمختاری کی قدر کرتا ہے اور اسے باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایک مستحکم، خودمختار اور خوشحال افغانستان کی حمایت جاری رکھیں گے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی امن مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے جو ہماری سرحد کے پار سے ریاستی اداروں کی منصوبہ بندی، معاونت، مالی اعانت سے انجام دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور علاقائی امن کے لیے خطرات سے نمٹنا ایس سی او کے لیے دلچسپی کا اہم موضوع ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تنازعے کے پْرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد امن کے لیے ضروری شرط، اور تعاون کا ماحول بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے پس منظر میں کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازع علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات اس مقصد کے خلاف ہیں۔ ایسے اقدامات کی مذمت اور سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے۔
شنگھائی کانفرنس اس خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، اور افغانستان ایک اہم فریق ہے، اْس کے لیے بھی امن اور استحکام کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کی جائے اور خواتین کے حقوق اور تمام فریقین پر مشتمل حکومت جیسے مسائل پر ان کی ’حوصلہ افزائی‘ کی جائے۔ افغانستان میں عسکری طاقت کا استعمال خطرناک ہوگا۔ ایک باضابطہ حکومت بنانے اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے دنیا کو طالبان کو وقت دینا چاہیے۔ پورے افغانستان کا کنٹرول طالبان کے پاس ہے، اور اگر وہ اب ایک جامع حکومت بنا سکتے ہیں اور تمام دھڑوں کو اکٹھا کرسکتے ہیں تو افغانستان میں 40 سال کے بعد امن ہوسکتا ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ملک خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے، جس سے سب سے بڑا انسانی بحران اور مہاجرین کا ایک بہت بڑا مسئلہ جنم لے گا۔ طالبان بحران سے بچنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی تلاش میں ہیں، جو انہیں ایک ’جائز سمت‘ کی طرف دھکیلنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ بین الاقوامی امداد اور مدد کے بغیر وہ اس بحران کو روک نہیں پائیں گے، لہٰذا ہمیں انہیں درست سمت میں لے جانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ وزیراعظم اچھی اچھی اور اصولی باتیں کرنے کے ساتھ افغان حکومت کو تسلیم کریں تاکہ تاریخ میں پاکستان کا نام بعد میں طالبان حکومت کو قبول کرنے والوں میں نہ ہو۔