لاپتا افراد کے اہلخانہ کا بچوں کی بازیابی کا مطالبہ

900

کراچی: لاپتہ ہونے والے پانچ نوجوانوں کے اہلخانہ نے حکومت سے ان کو بازیاب کرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے گذشتہ ماہ سے لاپتہ ہیں، مقدمہ درج ہونے کے بعد بھی ہمیں اپنے بچوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملیں ہیں۔

 لاپتہ ہونے والے افراد کے اہلخانہ  رسول خان ، شیخ عبدالرشید اور شاہین فاطمہ نے چوہدری عمر سندھو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ہمراہ   کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صادق آمین، ریحان رشید اور اسامہ سلیم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے 16 اگست 2021 کو لیاقت مارکیٹ کراچی سے اغوا کیا تھا۔

لاپتہ ہونے والے افراد کے اہلخانہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 20 اگست کو منیب الرحمن اور 26 اگست کو ذیشان احمد کو بھی اغوا کر لیا گیا اور وہ اب تک لا پتہ ہیں،پانچوں نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ اشخاص ہیں اور پاکستان کے بہترین اداروں سے انجینئرنگ اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ جیسی ڈگریوں کے حامل ہیں۔

اہلخانہ کا کہنا تھا کہ  وہ سب مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کر کے ملک وقوم کی خدمت کر رہے تھے اور کسی کا بھی کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ اگر ہمارے بچے کسی غلط سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو قانون کے تحت ان پر مقدمہ درج کرکے عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن ان کو اغوا کر کے غائب رکھنا سراسر ظلم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بچے ہی ہمارے گھر کے کفیل تھے اور اپنی بیوی بچوں کے سرپرست تھے، پورا ماہ گزرنے کے بعد بھی ابھی تک کوئی مثبت خبر نہیں ملی ہے۔

ہم حکام ِ بالا کی توجہ اس امر کی طرف دلانا چاہتے ہیں کہ اسلام کہ نام  پر بننے والے پاکستان میں انتہائی معزز اور شریف شہریوں کی جان، مال اور عزت  محفوط نہیں اور یہ سب کچھ مدینہ جیسی ریاست کے نعرے لگانے والے حکمرانوں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

انہوں نے وزیر  اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کو فی الفور بازیاب کرایا جائے اور اس دردناک انسانی مسئلے  کا سدباب کیاجائے۔