جنگِ خیبر

224

یہودیت ایک مدتِ دراز سے عرب میں رائج تھی۔ قبیلہ حمیر، بنوکنانہ، بنو حرث بن کعب، کندہ، یہ قبائل یہودی تھے۔ مدینہ منورہ میں یہود نے پورا غلبہ پالیا تھا اور تورات کی تعلیم کے لیے متعدد درس گاہیں قائم تھیں، جن کو ’’بیت المدراس‘‘ کہتے تھے۔ حدیث کی کتابوں میں اسی نام سے اْن کا ذکر آتا ہے۔ قلعۂ خیبر کی تمام آبادی یہودی تھی۔ امراء القیس کا ہم عصر مشہور شاعر سمویل بن عاد یا جس کی وفاداری آج تک عرب میں ضرب المثل ہے، یہودی تھا۔
جب رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتلِ عام کیا، اور پھر انھیں اِس سرزمین سے بالکل نکال باہر کیا، اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے، کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا۔ یہاں آکر انھوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے، وہاں ٹھہر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعے سے ان پر قبضہ جما لیا۔ ایلہ، مقنا، تبوک، تیما، وادی القری، فدک اور خیبر پر ان کا تسلط اسی دور میں قائم ہوا۔ اور بنی قریظہ، بنی نضِیر، بنی بہدل اور بنی قینقاع بھی اسی دور میں آکر یثرب پر قابض ہوئے۔
نبی کریمؐ نے مدینے کے یہودی قبائل سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کی صورت میں فریقین ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ جنگِ بدر کے موقع پر یہود نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی؛ اور غیر جانب دار رہنے کا اعلان کر دیا، حالاں کہ معاہدے کے تحت ان پر مسلمانوں کی مدد کرنا لازم ٹھہرتا تھا۔ جب مسلمان اکیلے ہی مشرکینِ مکہ پر فتح حاصل کرکے مدینے واپس لوٹے تو یہودیوں کو اور ناگوار گزرا۔ حسد میں وہ مسلم دشمنی پر اتر آئے۔ مجبوراً مسلمانوں کو سب سے پہلے یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کو مدینے سے جلاوطن کرنا پڑا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رمضان 2 ھ میں نبیؐ جنگ ِ بدر کے معرکے سے مدینہ واپس لوٹے۔ اس کے ایک مہینے بعد ہی 15 شوال 2ھ میں غزوہ بنی قینقاع کا واقعہ درپیش ہوا۔ بدر کے بعد یہودیوں نے شر وعداوت کا مظاہرہ کیا۔ مدینہ کے اطراف میں یہودیوں کے تین بڑے قبائل آباد تھے: بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ۔ ان تینوں سے مسلمانوں کا معاہدہ تھا، مگر جنگِ بدر کے بعد جس قبیلے نے سب سے پہلے معاہدہ توڑا، وہ قبیلہ بنو قینقاع تھا۔ اس قبیلے کے یہودی سب سے زیادہ بہادر اور دولت مند تھے۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایک برقع پوش عرب عورت یہودیوں کے بازار میں آئی، دکانداروں نے شرارت کی اور اس عورت کا لباس اتار دیا۔ اس پر تمام یہودی قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے، عورت چلائی تو ایک عربی آیا اور دکاندار کو قتل کر دیا۔ اس پر یہودیوں اور عربوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ نبیؐ کو خبر ہوئی تو تشریف لائے اور یہودیوں کی اس غیر شریفانہ حرکت پر ملامت فرمانے لگے۔ اِس پر بنوقینقاع کے خبیث یہودی بگڑ گئے اور بولے کہ جنگ ِبدر کی فتح سے آپ مغرور نہ ہو جائیں۔ مکہ والے جنگ کے معاملے میں بے ڈھنگے تھے، اس لیے آپ نے ان کو شکست دے دی، اگر ہم سے آپ کا سابقہ پڑا تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جنگ کس چیز کا نام ہے؟ اور لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں؟
جب یہودیوں نے معاہدہ توڑدیا تو نبیؐ نے نصف شوال 2 ھ پیر کے دن ان یہودیوں پر حملہ کر دیا۔ یہودی جنگ کی تاب نہ لا سکے اور اپنے قلعوں کا پھاٹک بند کرکے قلعہ بند ہوگئے، مگر پندرہ دن کے محاصرے کے بعد بالآخر یہودی مغلوب ہو گئے اور ذی القعدہ کی چاند رات کو یہودی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔ نبیؐ نے صحابہ کرامؐ کے مشورے سے ان یہودیوں کو جلاوطن کر دیا اور یہ عہد شکن، بدذات یہودی ملک شام کے مقام اذرعات میں جاکر آباد ہوگئے، مگر اسلام دشمنی سے پھر بھی باز نہ آئے اور بدستور سازشوں میں مصروف رہے۔ اسلامی لشکر نے جنگِ خیبر میں ان کی سرکوبی کی۔
محرم 7ھ، بمطابق مئی 628ء میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یہ جنگ ہوئی، جس میں مسلمان فتح یاب ہوئے۔ اسلامی لشکر کی قیادت نبی اکرمؐ کے پاس تھی، مدینہ منورہ کا خلیفہ سیدنا سبابہ بن ابی عرفہؓ کو منتخب کیا گیا، اور سیدنا علیؓ عَلم بَردار تھے۔
خیبر یہودیوں کا مرکز تھا، جو مدینہ سے 150 کلومیٹر عرب کے شمال مغرب میں تھا۔ یہ علاقہ، بالخصوص اس کے کئی قلعے یہودی فوجی طاقت کے مرکز تھے، جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے خطرہ بنے رہے اور مسلمانوں کے خلاف کئی سازشوں میں شریک رہے۔ ان سازشوں میں غزوہ خندق اور غزوہ احد کے دوران یہودیوں کی کارروائیاں سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر کے یہود نے قبیلہ بنی نظیر کو بھی پناہ دی تھی، جو مسلمانوں کے ساتھ سازش اور جنگ میں ملوث رہے تھے۔ خیبر کے یہود کے تعلقات بنو قریظہ کے ساتھ بھی تھے، جنھوں نے غزوۂ خندق میں مسلمانوں سے عہد شکنی کرتے ہوئے انھیں سخت مشکل سے دوچار کر دیا تھا۔ خیبر والوں نے فدک کے یہودیوں کے علاوہ نجد کے قبیلہ بنی غطفان کے ساتھ بھی مسلمانوں کے خلاف معاہدے کیے تھے۔ ان کا قضیہ چکانا ضروری تھا۔ چنانچہ سیدنا محمدؐ 1600 صحابہ کرامؓ کی فوج کے ساتھ، جن میں سے ایک سو سے کچھ زائد گھڑ سوار تھے، خیبر کی طرف جنگ کی نیت سے روانہ ہوئے اور پانچ چھوٹے قلعے فتح کرلیے، اس میں پچاس مجاہدین زخمی اور ایک صحابی شہید ہوئے۔ اس کے بعد قلعہ خیبر کا محاصرہ کر لیا جو دشمن کا سب سے بڑا اور اہم قلعہ تھا۔ یہ قلعہ ایک نسبتاً اونچی پہاڑی پر بنا ہوا تھا اور اس کا دفاع بہت مضبوط تھا۔
یہودیوں نے عورتیں اور بچے ایک قلعے میں اور سامانِ خور ونوش و دیگر ساز وسامان ایک اور قلعے میں رکھ دیا، اور ہر قلعے پر تیر انداز تعینات کر دیے جو قلعے میں داخل ہونے کی کوشش پر تیروں کی بارش کر دیتے تھے۔ یہودی رات کی تاریکی میں ایک سے دوسرے قلعے تک اپنا مال و اسباب اور لوگوں کو منتقل کرتے رہے۔ باقی دو قلعوں میں قلعہ قموص سب سے بنیادی اور بڑا تھا اور ایک پہاڑی پر بنا ہوا تھا۔ نبیؐ نے باری باری سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا سعد بن عبادہؓ کی قیادت میں افوج اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے بھیجیں مگر مسلمان کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر نبیؐ نے ارشاد فرمایا:
کل میں اسے عَلم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ شکست کھانے والا اور بھاگنے والا نہیں ہے۔ خدا اس کے دونوں ہاتھوں سے فتح عطا کرے گا۔
یہ سن کر اصحاب خواہش کرنے لگے کہ یہ سعادت انھیں نصیب ہو۔ اگلے دن نبیؐ نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو طلب کیا۔ صحابہ کرامؓ نے بتایا کہ انھیں آشوبِ چشم ہے۔ جب علیؓ آئے تو نبیؐ نے اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں میں لگایا، جس کے بعد تا زندگی انھیں کبھی آشوب چشم نہیں ہوا۔ سیدنا علیؓ قلعے پر حملہ کرنے کے لیے پہنچے، تو یہودیوں کے مشہور پہلوان مرحب کا بھائی مسلمانوں پر حملہ آور ہوا، مگر علی کرم اللہ وجہہ نے اسے قتل کر دیا اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔ اس کے بعد مرحب رجز پڑھتا ہوا خود میدان میں اترا۔ اس نے زرہ بکتر اور خود (جنگی ٹوپی) پہنی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ایک زبردست لڑائی کے دوران سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے اس کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کا خود اور سر درمیان سے دو ٹکرے ہوگیا۔ اس کی ہلاکت سے خوفزدہ ہو کر اس کے ساتھی بھاگ کر قلعے میں پناہ گزین ہو گئے۔ پھر تمام مسلمانوں ان پر ٹوٹ پڑے، اس جنگ میں 93 یہودی ہلاک ہوئے اور قلعہ فتح ہوگیا۔
مسلمانوں کو شاندار فتح ہوئی۔ نبیؐ نے یہودیوں کو ان کی خواہش پر پہلے کی طرح خیبر میں رہنے کی اجازت دی اور ان کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اپنی آمدنی کا نصف بطور ِجزیہ مسلمانوں کو دیں گے اور مسلمان جب مناسب سمجھیں گے انھیں خیبر سے نکال دیں گے۔ اس جنگ میں بنی نضیر کے سردار حئی بن اخطب کی بیٹی صفیہ بھی قید ہوئیں، جن کو آزاد کر کے نبی اکرمؐ نے ان سے نکاح کر لیا۔ اس جنگ سے مسلمانوں کو ایک حد تک یہودیوں کی گھناؤنی سازشوں سے نجات مل گئی اور انھیں معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے۔ اسی جنگ کے بعد بنو نضیر کی ایک یہودی عورت نے نبیؐ کو بھیڑ کا گوشت پیش کیا، جس میں ایک سریع الاثر زہر ملا ہوا تھا۔ نبیؐ نے اسے یہ محسوس ہونے پر تھوک دیا کہ اس میں زہر ہے، مگر آپؐ کے ایک صحابی جو اْن کے ساتھ کھانے میں شریک تھے، شہید ہوگئے۔ ایک صحابی کی روایت کے مطابق بسترِ وفات پر نبیؐ نے فرمایا تھا: ان کی بیماری اس زہر کا اثر ہے جو خیبر میں دیا گیا تھا۔