فرنیچر کی خریداری میں 3ارب کی کرپشن کی گئی ، حلیم عادل ، جھوٹ ہے ، سعید غنی

70

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سعید غنی محکمہ لیبر میں مزدوروں کے جوتوں کے پیسے بھی کھا چکے ہیں، جب نیب ان کو بلاتی ہے تو کہتے ہیں دھرنا دیں گے، ڈیسکوں کی خریداری میں3 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے، سندھ میں کرپشن کا پیسا بلاول ہائوس اور وزیر اعلیٰ ہائوس تک پہنچایا جاتا ہے۔وہ بدھ کو سندھ اسمبلی میڈیا کارنر میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما سردارعنایت رند، ایڈووکیٹ اجمل سولنگی و دیگر بھی موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 3 روز قبل سندھ اسمبلی میں اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سے پوچھا تھا کہ 5 ہزار والی ڈیسک 29 ہزار میں کیسے لی جارہی ہے؟ انہوں نے اہمیت نہیں دی۔ یہ ہمارے بچوں کا پیسہ ہے یوں ضائع ہونے نہیں دیں گے۔ صوبائی وزیر دو دو گاڑیاں رکھتے ہیں جس پر ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے منشیات فروشی کی رپورٹ دی تھی، اسی سعید غنی کو تعلیم کو تباہ کرنے کے لیے لگایا گیا تھا 5 ہزار والی ڈیسک 29 ہزار روپے میں لینے کا فارمولا بنایا گیا۔ ملیر ایکسپریس وے پر بھی ایک سو ارب روپے ضائع کیے جارہے ہیں، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے رپورٹ جاری کی ہے۔ تھرپارکر کے آر او پلانٹس پر بھی اربوں کی کرپشن کی گئی ہے اس پر بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے رپورٹ جاری کی ہے، اصل پیسے بھی سندھ حکومت کھا گئی ہے، اب مرمت پر بھی پیسے کھائے جارہے ہیں، 13 سالوں میں 1450 ارب روپے تعلیم پر خرچ کیے گئے ہیں اب 10ہزار مزید اسکول بند کیے جارہے ہیں، 69 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اسکولوں میں بھینسیں بندھی ہوئی ہیں۔ سندھ کو تباہ کرنے میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اینڈ کمپنی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کراچی کی روشنیاں بحال کرا رہی ہے، گرین لائن کی بسیں 20 ستمبر کو کراچی پورٹ پر پہنچ رہی ہیں، چالیس بسیں اکتوبر میں پہنچیں گے، سندھ حکومت بتائے ان کی بلیو، ریڈ، لائن بسیں کہاں ہیں، ؟ جیسی سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے ویسی کراچی میں ٹوٹی پھوٹی بسیں چل رہی ہیں۔ادھر صوبائی وزراسعید غنی اور سید سردار شاہ نے کہا ہے کہ اسکول فرنیچر کی خریداری کا پورا پروسیس آزاد اور خود مختارسینٹرل پروکیومنٹ کمیٹی نے انجام دیا ہے اور اس میں کسی وزیر سمیت کسی کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ ان الزامات کے شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔سینٹرل پروکیورمنٹ کمیٹی نے ہر پراسیس کے دوران نیب، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، ہائی کورٹ سندھ اور اینٹی کرپشن کو اعتماد میں لیا اور انہیں اپنا نمائندہ اس تمام پروسیس کی نگرانی کے لیے متعین کرنے کی بھی استدعا کی۔ اسکولوں کے لیے فرنیچر 3ارب 60 کروڑ روپے کا خریدا جانا ہے، جس میں ایک ارب روپے کی رقم ٹیکسز اور ٹرانسپورٹ کی مد میں متعلقہ بیڈر ادا کرے گا تو مجھے نہیں معلوم کہ کچھ نجی چینل سندھ حکومت کو 3 ارب کا ٹیکا لگانے کی خبر کہاں سے لے آئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ان دونوں صوبائی وزرا نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم سندھ غلام اکبر لغاری اور سیکرٹری اطلاعات سندھ اعجاز خان بلوچ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے اسکولوں کے فرنیچر کو لے کر میڈیا اور ہمارے اپوزیشن کے ارکان سندھ حکومت پر الزامات لگا رہے ہیں اور دعوے کررہے ہیں کہ سندھ حکومت کو اربوں روپے کا ٹیکا لگایا جارہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسکولوں کے لیے فرنیچر کی گزشتہ 8 سال سے خریداری نہیں کی گئی تھی، جس کے بعد 2018ء میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک سینٹرل پروکیورمنٹ کمیٹی بنائی جائے، جو مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو اور اس میں صوبے کے نامی گرامی افراد کو شامل کیا جائے۔ انہوںنے کہا کہ 2018 ء میں جب یہ کمیٹی بنائی گئی تو اس کے سربراہ معروف تعلیم داں اور آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر نثار صدیقی تھے اور اس کمیٹی میں سابق گورنر لیفٹیننٹ (ر) محی الدین حیدر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سعد راشد کے علاوہ سپرا کی پالیسی کے مطابق افسران اور دیگر شامل تھے۔ انہوںنے کہا کہ مذکورہ پروکیومنٹ کمیٹی نے پہلا ٹینڈر قیمت سے کم کی بولی آنے اور فرنیچر کا اسٹینڈر جو انہوں نے متعین کیا تھا اس معیار کا نہ ہونے کے باعث معطل کیا، اس کے بعد 2019ء میں دوبارہ ٹینڈر کیے گئے اور اس میں بولیاں 21 ہزار سے 26 ہزار تک آئیں لیکن اس پر ایک شخص نے اس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور اس پر اسٹے لیا او ربعد ازاں سندھ ہائی کورٹ سے یہ اسٹے 2020 میں ختم ہوا ۔