عالمی برادری طالبان کی حکومت تسلیم کرے،عمران خان

171
لاہور: وزیراعظم عمران خان سی این این کی نمائندہ کو انٹرویو دے رہے ہیں

اسلام آباد/واشنگٹن( صباح نیوز +آن لائن + مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے۔ بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھاکہ افغانستان کی صورِتحال پریشان کن ہے،وہاں کیا ہونے والا ہے، کوئی پیش گوئی نہیں کرسکتا ،اگر دنیا نے افغان عوام کی مدد نہ کی اور حالات بہتر نہ ہوئے تو انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے، بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کا بحران جنم لے سکتا ہے،افغانستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا افغانستان کو باہر سے کنٹرول کرنے کی کوشش کے بجائے طالبان کی اہم معاملات پر حوصلہ افزائی کرے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی باہر سے آکر افغان خواتین کو حقوق نہیں دے گا، افغان خواتین مضبوط ہیں، انہیں وقت دیں وہ اپنے حقوق خود ہی حاصل کر لیں گی،آپ باہر بیٹھ کر خواتین کے حقوق مسلط نہیں کر سکتے۔عمران خان کے بقول طالبان کی حکومت سمجھتی ہے کہ اگر دنیا نے اْن کی مدد نہ کی تو وہ تن تنہا اس بحران سے نہیں نمٹ سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان اس وقت تاریخی موڑ پر ہے، اگر وہاں 40سال بعد امن قائم ہوتا ہے اور طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ایک جامع حکومت کے قیام کے لیے کام کرتے ہیں اور تمام دھڑوں کو ملاتے ہیں تو افغانستان میں 40سال بعد امن ہو سکتا ہے۔وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اگر یہ عمل ناکامی سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں بہت زیادہ خدشات بھی لاحق ہیں، تو اس سے افرا تفری مچے گی، سب سے بڑا انسانی بحران پیدا ہو گا، مہاجرین کا مسئلہ ہو گا، افغانستان غیرمستحکم ہو گا۔عمران خان نے کہاکہ امریکا نے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تھا لیکن غیرمستحکم افغانستان کے نتیجے میں وہاںپھر سے دہشت گردی کا خطرہ جنم لے گا۔وزیراعظم کے مطابق امریکا کو زمینی حقائق کا نہیں پتا، اس لیے پاکستان پر اعتماد نہیں کرتا، اب تک پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی بنیاد غلط تھی، ہم ایک طرح سے امریکا کے لیے کرائے کی فوج رہے، اگر میں نائن الیون کے وقت وزیراعظم ہوتا تو امریکا کو افغانستان پر حملے کی اجازت نہ دیتا،پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ بھارت کی طرز پر تعلقات رکھے۔ایک سوال کے جواب پر عمران خان کا کہنا تھاکہ خفیہ ایجنسیوں کا یہ کام ہوتا ہے کہ مختلف گروپوں سے رابطے رکھے، جیسے سی آئی اے کے بھی ہیں۔امریکی صدر کے ساتھ بات نہ ہونے کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد سے جو بائیڈن نے فون نہیں کیا، وہ مصروف شخصیت ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے سینیٹ میں ارکان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے واضح انداز میں بتایا کہ طالبان پر عائد پابندیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا البتہ اقوام متحدہ کے اداروں اور این جی اوز کی مدد سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان شہریوں کی امداد جاری رکھی جائے گی۔امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ رواں مالی سال افغان شہریوں کو 33 کروڑ ڈالر کی مالی امداد فراہم کی جائے گی اور یہ اعانت افغان شہریوں کو طالبان کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست پہنچانے کے انتظامات کیے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ افغان شہریوں کی مالی امداد میں اضافے سے صحت اور غذا کی ضروریات پوری کی جاسکیں گی جبکہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔علاوہ ازیں امریکا کی ڈائریکٹر ڈیفنس انٹیلی جنس ارویل ہینس کا کہنا ہے کہ القاعدہ جلد امریکا پرایک حملہ کرے گا۔سیکورٹی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد القاعدہ کاخطرہ بڑھ گیا، القاعدہ کو امریکا پر حملے کی صلاحیت حاصل کرنے میں ایک سے دوسال لگیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو مانیٹر کرنے کی امریکی صلاحیت کم ہوگئی ہے، دوبارہ رسائی کے لیے راستے تلاش کررہے ہیں۔دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی ایڈیوڈ کوہن نے بھی دہشت گردی کے خطرات بڑھنے کااشارہ کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا پر آئندہ چند سالوں میں القاعدہ کے علاوہ داعش خراساں بھی حملے کرسکتی ہے۔