بلدیاتی ٹیکسز ہڑپ کرنے کی تجویز

125

حکومت سندھ کی جانب سے بجلی کے بلوں کے ساتھ میونسپل ٹیکسز کی وصولی کی تجویز کے بعد سے بحثیں چھڑ گئی ہیںکہ ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ایک مرتبہ پھر کراچی کے حوالے سے بات سامنے آگئی کہ کراچی میں تو بجلی کے بل کے الیکٹرک چارج کرتی ہے تو مثال کے طور پر اگر کے الیکٹرک کو بجلی کے بلوں کے ساتھ میونسپل ٹیکسز وصول کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو کیا کیا امکانات ہوسکتے ہیں۔سب سے پہلے تو کے الیکٹرک کی آمدنی میں اربوں روپے کا اضافہ ہوجائے گاجو سیدھا بینک اکائونٹ میں جائے گااور اس رقم سے کے الیکٹرک کروڑوں روپے ماہانہ سود وصول کرے گی۔ عوام جو ٹیکس دینے یا نہ دینے کے بارے میں الگ الگ خیالات اور اسباب رکھتے ہیں ان ٹیکسوں کو یکشمت بجلی کے بل کے ساتھ دینا پڑے گا خواہ عوام کو پانی مل رہا ہو یا نہیں۔ ان کے گٹر صاف ہورہے ہوں یا نہیں۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہوں یا نہیںاور لائٹیں بند ہوں یا کھلی ہوئی یا پارک میں درخت اور گھاس ہو یا نہیں۔ انہیں ٹیکس دینا پڑے گا۔یہ معاملہ تو عوام کے ساتھ ہوگیا ۔عوام کو بلدیاتی خدمات پہلے بھی نہیں مل رہی تھیں اب اور بھی نہیں ملیں گی کیونکہ کے الیکٹرک کا ماضی گواہ ہے کہ وہ سرکاری ٹیکس کی رقم سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کرتی۔ اگر پی ٹی وی لائسنس فیس کی بات کی جائے تو کئی برس کی لائسنس فیس کی رقم پی ٹی وی کو نہیں ملی پی ٹی وی اس رقم سے اپنا پرانا خسارہ بھی ختم کرسکتی ہے اور بہت سے ملازمین کی تنخواہوں میں معقول اضافہ بھی ۔اب اس تنازعے کے تناظر میں دیکھیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کے الیکٹرک کے بلوں میں وصول کی ہوئی صوبائی ٹیکسوں کی رقم ان اداروں کو مل جائے گی۔ ایک سوال اور ہے کہ کیا یہ رقم پہلے براہ راست حکومت سندھ کے خزانے میں جائے گی اور پھر متعلقہ ادارے کو منتقل کیا جائیگا۔ کہنے کو تو ایسا نظام وضع ہوجائیگا۔ لیکن اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ حکومت سندھ متعلقہ بلدیاتی اداروں کو ان کے ٹیکسوں کی رقم ادا کرے گی۔ تو پھر اس کا کیا مطلب ہے۔ یہ رقم عوام سے زبردستی وصول کرکے کے الیکٹرک کے اکائونٹ میں پہنچ جائے گی۔ جہاں سے نکلوانا حکومت سندھ کے لیے مشکل ہے اور بلدیاتی اداروں کے لیے ناممکن ۔بلدیاتی اداروں کی جانب سے صوبائی مشیر اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کے موقف کی حمایت میں بیان نے ایک اور سوال کھڑا کردیا ہے۔ بلدیہ کے افسر کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں بلدیاتی اداروں کی آمدنی میں اضافہ ہوجائے گا اور شہر کی شکل بدل جائے گی۔ حالانکہ اگر شہر کی شکل بدلنے کے عزائم ہوتے تو دستیاب رقم سے کم ازکم اس شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے کا کام کرلیا جاتا۔ یہاں تو الٹا معاملہ ہے کراچی کی صورت تو بگاڑ کر تباہ کردی گئی ہے۔ اہم بات یہ کہ حکومت سندھ کا اپنا ٹریک ریکارڈ ٹیکسوں کے حوالے سے نہایت خراب ہے۔ وہ جتنے ٹیکس جن مدات میں وصول کرتی ہے کیا ان ٹیکسوں سے عوام کو وہ سہولتیں فراہم کرتی ہے جن کی ذمے داری حکومت پر ہے۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہے بلکہ اس حکومت نے تو درجنوں بلدیاتی ادارے صوبائی حکومت کے کنٹرول میں لے کر ان کے بجٹ اپنے خزانے میں ڈال لیے اور اب یہ ادارے یتیم ہوگئے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا قیام اس کی نادرمثال ہے ۔ایک ادارہ قائم کرکے کراچی کے بلڈنگ کنٹرول کو سندھ بلڈنگ کنٹرول کے نام پر اپنے قبضے میں کرلیا ۔ اگر چہ ہم دنیا بھر میں ٹیکسز کو لوکل سطح پر وصول اور خرچ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس کا قانون بھی بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی بلدیاتی اداروں کو ٹیکس وصول کرنے کا اختیار ہے۔ لیکن ان اداروں کو ٹیکس وصول کرنے کے حق سے محروم کیا جارہاہے۔ اس قسم کی تجویز سے کراچی تو مزید کھنڈر بن جائے گا اور سندھ کے دوسرے شہروں پر پہلے بھی حکومت سندھ کی نظر کرم نہیں تھی تو اب کیا ہوگی۔یہ تجویز تو دراصل آئین سے بھی متصادم ہے۔ آئین بلدیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینا چاہتا ہے اختیارات کے ساتھ ساتھ وسائل بھی دیے جاتے ہیں لیکن حکومت سندھ وسائل سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ایک تو بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جارہے پھر بلدیاتی فنڈز پر قبضے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ایسے میں صوبائی حکومت کی اس تجویز کو کیسے حمایت مل جائے گی۔ کے الیکٹرک کی جانب سے تمام حکومتی گروپوں کے اہم لوگوں اور ان کے رشتے داروں کو ملازمتیں دے کر من مانی کا موقع لینے کی بات تو پہلے ہی معروف تھی اب کیا کوئی نیا کھانچہ مارا جارہا ہے۔یہ بات ہر طرح ناپ تول کر دیکھی جاچکی ہے کہ کے الیکٹرک معتبر ادارہ نہیںہے ۔حکومت سندھ بھی معتبر نہیں تو پھر ایسا غیر آئینی کام کرنے کی تجویز یکسر مسترد کردینی چاہیے۔