اچھی معاشرت ، چند پہلو!

251

 

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: جو بھی قوم کسی مجلس سے اْٹھے، اس میں اللہ کا ذکر نہ کیا ہو، وہ گویا مْردار گدھے کی لاش سے اْٹھی ہے۔ ان پر ذکر ِ الٰہی نہ کرنے کا افسوس رہے گا۔ (ابو داؤد)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ فہم قرآن و حدیث کے لیے مجلسیں بناکر کسی ایک جگہ جمع ہوتے تھے، جہاں وہ مختلف ملّی، سماجی اور دینی مسائل پر گفتگو کرتے۔ ہر ایک کی حالت سے واقفیت بھی حاصل کرتے تھے۔ اس سلسلے میں حدیث جبریل کو واضح مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت صحابہ کرامؓ آپؐ کے پاس بیٹھ کر دین کی باتیں سیکھ رہے تھے۔
حدیث کے بین السطور سے واضح ہورہا ہے کہ ان کی مجلسیں اللہ اور اس کے رسولؐ کے ذکر سے خالی نہیں ہوتی تھیں۔ اس لیے آپؐ نے یہ انتباہ دیا کہ اگر کوئی مجلس ایسی ہو، جس میں اللہ اور اس کے رسولؐ کا تذکرہ نہ آئے، تو وہ مجلس مْردار گدھے کی لاش کی مانند ہے۔ آپؐ کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ مجلسیں خیر وبرکت کے لیے ہوں۔ ان میں اتحاد واتفاق اور اجتماعیت کی باتیں ہوں۔ یہ نہ ہو کہ وہاں معاشرے کے افراد کی بْرائیاں بیان کی جائیں، ایک دوسرے کی غیبت ہو اور لغو باتوں میں وقت ضائع جاتا ہو۔ ذکراللہ سے مراد روایتی ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں ہر وہ کام شامل ہے، جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کیا جائے۔ دینی مسائل کی تفہیم، ملّت کی فلاح وبہبود کے لیے منصوبہ بندی اور تعلیم و تربیت کا پروگرام جیسے اہم اْمور اس میں شامل ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کا جو معمول تھا نبیؐ اس کو باقی رکھنا چاہتے تھے۔ آپؐ نہیں چاہتے تھے کہ صحابہؓ کہیں غفلت کا شکار ہوکر مجلسوں کو صرف دْنیاوی یا خلافِ شریعت باتوں کے لیے استعمال کرنے لگیں۔ اس سے روکنے کے لیے آپؐ نے تمثیلی انداز میں اس طرح بیان فرمایا تھا۔ مراد یہ ہے کہ مجلس میں خیر کی باتیں نہ ہونے پر افسوس ہونا چاہیے۔ آج ہم کو غور کرنا ہے اور اپنے رویے پر نظرثانی کرنی ہے کہ ہماری مجلسیں کیسی ہوتی جارہی ہیں۔ خلافِ شرع مجلس کو شریعت کے مطابق بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔
دْنیا سے تعلق
سیدنا عبداللہؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہؐ چٹائی پر سوگئے، جب بیدار ہوئے تو پہلو پر نشانات تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اجازت دیں تو ہم آپؐ کے لیے بستر تیار کردیں۔ آپ نے فرمایا: میرا دْنیا سے کیا تعلق، مَیں تو دْنیا میں صرف اس راہی کی طرح ہوں، جو آرام کی خاطر کسی درخت کے نیچے رْکا پھر آرام کیا اور چلتا بنا۔ (ترمذی)
قرآن و حدیث کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ دْنیا کی بہ نسبت آخرت کی زندگی طویل اور دیرپا ہے۔ اس لیے اْخروی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی بار بار ترغیب دی گئی ہے۔ دْنیوی زندگی کو دارالعمل کہا گیا۔ یہاں بندہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے، اچھے اور بہتر اعمال کرے، اس کا اچھا بدلہ اس کو آخرت میں ملے گا۔ قیامت کے بعد آنے والی اْخروی زندگی کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز زیادہ اہم ہوتی ہے، اسی اعتبار سے اس کی تیاری کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے رسول اللہؐ کا اسوہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ دْنیا کو کس طرح برتتے تھے اور صحابہ کرامؓ کو بھی اسی کی تعلیم دیتے تھے۔ اس حدیث میں آپؐ نے دْنیا و آخرت کی زندگی کو تمثیلی انداز میں پیش کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دْنیا کی زندگی اس قدر مختصر ہے، جس طرح ایک راہ گیر چلتے چلتے تھک کر کسی درخت کے زیرسایہ آرام کرنے کے لیے رْکے، تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد پھر راستہ لے لے۔ سفر میں آدمی کا زیادہ وقت سفر میں گزرتا ہے۔ چوبیس گھنٹے میں چند گھنٹے ہی وہ آرام کرتا ہے۔ یہی حال دْنیوی زندگی کا ہونا چاہیے کہ آدمی حرکت میں رہے، نیک اعمال کا ذخیرہ کرے تاکہ اْخروی زندگی میں اس سے زیادہ فائدہ اْٹھا سکے۔
اس تمثیل کے مطابق دْنیوی زندگی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ زندگی ختم ہونے سے پہلے نیک اعمال کرلینے چاہییں۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کے اس طرزِعمل کو دیکھ کر ابن عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے لیے نرم و ملائم اور آرام دہ بستر تیار کردیا جائے تو اس موقعے پر آپؐ نے ان سے فرمایا: ہمارا دْنیا سے کیا لینا دینا ہے، ہمارا دْنیا سے بس اس قدر تعلق ہے جتنا ایک راہی راستے میں آرام کرنے کے لیے کسی درخت کے زیرسایہ قیام کرے اور پھر اپنی راہ لے۔ ہم کو دْنیا سے لو نہیں لگانا ہے۔ ہم تو آخرت کے طالب ہیں۔ آخرت دْنیا کی سوکن ہے، دونوں ایک ساتھ کیسے جمع ہوسکتی ہیں۔