پانی چوری کرکے فروخت کیا جارہا ہے،جو ظلم کی انتہاہے،عبدالخالق کھوسو

98

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) قنبر شہدادکوٹ اضلاع کے آبادگاروں کو زرعی پانی نہ مل سکا، سندھ آبادگار بورڈ ضلع قنبر شہدادکوٹ کے رہنماؤں عبدالخالق کھوسو، ذوالفقار جمالی، گوہر رضا کھاوڑ اور دیگر نے لاڑکانہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ راستہ روکنے کے باوجود ہم نے زرعی پانی کی قلت کیخلاف احتجاج کیے، پریس کانفرنسز کیں لیکن مسائل حل نہیں ہوسکے، ہم نے مارچ اور اپریل سے لے کر ابھی تک زرعی پانی نہیں دیکھا، جو کہ ظلم کی انتہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پوری نشاندہی کی ہے کہ پانی پائپوں کے ذریعے چوری کرکے بلوچستان کو دیا جارہا ہے، ہم چاہتے ہیں رینجرز اہلکاروں کی مدد سے کیرتھر کینال اور سیف اللہ کینال میں لگے چوری کے پائپ ہٹائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پانی چوری کرکے پیسوں پر فروخت کیا جارہا ہے اور ایک پائپ 20 سے 25 لاکھ روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نا لائق چیف انجینئر بہت بڑا راشی ہے، ہمارے منظور کیے گئے 50 کروڑ روپے بھی ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے، اب 60 ہیکڑ پانی پر گزارا نہیں ہوتا، چار گنا زیادہ پانی دیا جائے تب جاکر مسائل حل ہوں گے، اگر پانی نہ ملا تو مزدور، آبادگار، علاقے میں بے امنی پھیل جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آبپاشی وزیر جھوٹ بول رہا ہے کہ پائپ نکالنے سے گھارے پڑ جائیں گے اور ہمارے احتجاج کے بعد مزید پانچ پانی کے پائپ اور لگا دیے گئے ہیں جو کہ ظلم اور زیادتی ہے۔ قنبر شہداد کوٹ محترمہ بینظیر بھٹو کا حلقہ ہے لیکن اس کو تباہ کیا جارہا ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ کے رہنمائوں نے مزید کہا کہ این ڈبیلو سی سسٹم میں پانی کی قلت فوری ختم کی جائے کیونکہ بلوچستان صوبہ اس سسٹم میں حصے دار بھی نہیں ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کو پانی دینے کے لیے این ڈبلیو سی سسٹم میں اتنا پانی دیا جائے جو قلت بھی نہ رہے کیونکہ بلوچستان کے ساتھ ہماری ہزاروں ایکڑ زمینیں غیر آباد ہوچکی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی پانی کی قلت فوری ختم کرکے بے چینی دور کی جائے بصورت دیگر کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے کر کراچی سے کشمور تک احتجاج کیا جائے گا۔