قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

96

باغ اور انگور۔ اور نوخیر ہم سن لڑکیاں۔ اور چھلکتے ہوئے جام۔ وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے۔ جزا اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے۔ اْس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔ جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے، کوئی نہ بولے گا سوائے اْس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے۔ ہم نے تم لوگوں کو اْس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آ لگا ہے جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔(سورۃ النباء:32تا40)

سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، ابوعثمان، ابو موسیٰؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پس جب ہم لوگ بلندی پر چڑھتے تو تکبیر کہتے آپؐ نے فرمایا کہ اپنے اوپر نرمی کرو، تم کسی بہرے اور غیرحاضر کو نہیں پکارتے بلکہ تم سننے والے دیکھنے والے کو پکارتے ہو، پھر آپ میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں اپنے دل میں لَا حَولَ وَلَا قْوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ کہہ رہا تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس تو (لَا حَولَ وَلَا قْوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ) کہہ، اس لیے کہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے یا فرمایا کہ میں تم کو (جنت کا خزانہ) نہ بتلاؤں۔ (صحیح بخاری)