کورونا: عوام کو دھمکیاں۔ حکمران آزاد

199

قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے کورونا کے نام پر حاصل کی گئی 1240 ارب روپے کی رقم کی خلاف ضابطہ تقسیم کا نوٹس لیا ہے۔ اور سوال پوچھا ہے کہ رقم کہاں کیسے خرچ کی گئی بلکہ کہاں سے آئی، کتنی آئی اور کس کس کو کتنی کتنی رقم کس استحقاق کے تحت دی گئی۔ سیکرٹری خزانہ کمیٹی کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکے۔ رقوم کی تفصیلات بھی نہیں بتا سکے۔ اب سیکرٹری اقتصادی امور کو طلب کیا گیا ہے۔ اور یہ طلبی جواب طلبی کا کھیل کچھ دن چل کر قوم کے 1240 ارب روپے ٹھکانے لگانے کا پورا انتظام ہوجائے گا۔ پاکستانی قوم کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ بم دھماکا ہوجائے تو موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی، دہشت گردی ہوجائے تو بہت ساری سڑکیں بند۔ اب کورونا آگیا اس وبا نے بڑی پریشانی پیدا کی، اس وبا اور بیماری سے زیادہ پریشانی حکمرانوں نے پیدا کی۔ لاک ڈائون ان ممالک کی نقل یا اشارے یا جو کچھ بھی کہا جائے پر کیا جارہا ہے۔ جنہوں نے بیروزگاری الائونس دیا، لوگوں کو گھروں سے کام کرنے کا موقع دیا۔ لوگوں کو دوائوں، ویکسین، طبی خدمات میں بھرپور تعاون دیا اور لاک ڈائون بھی کیا۔ لیکن پاکستانی حکمرانوں نے نہایت متضاد رویے رکھے۔ تین بڑی سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بڑے بڑے جلسے کیے۔ وزیراعظم، وزرا، مسلم لیگ ن، پی پی پی سمیت کسی پارٹی نے کسی ایس او پی کا خیال نہیں رکھا۔ لیکن عوام سے سارے مطالبات ہیں۔ کووڈ کے نام پر ساری دنیا سے امداد حاصل کی جارہی ہے۔ چین، امریکا، اقوام متحدہ سمیت سب سے مال اور رقوم وصول کی جارہی ہیں۔ ویکسین مفت لی جارہی ہے لیکن حال یہ ہے کہ پورے پاکستان میں اب تک 10 فی صد ویکسی نیشن بھی نہیں ہوئی ہے اور حکومت کا رویہ ایسا ہے کہ جیسے اس نے عوام کو تمام ہی سہولتیں دے رکھی ہیں اور یہ عوام ہیں کہ کووڈ پھیلانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ حکومت 2 سال میں وینٹی لیٹرز کا مناسب انتظام نہیں کرسکی، آکسیجن کا انتظام نہیں کرسکی، کسی میٹرز کے لیے کچھ انتظام نہیں، دوائیں نہیں، اسپتالوں میں بستر نہیں۔ یہ تو کووڈ کا معاملہ ہے جس کی پورے پاکستان میں آبادی کی چار فی صد سے زیادہ تعداد نہیں ہوگی۔ لیکن عام دوائیں، اسپتالوں میں عام ضروریات، کتے کے کاٹے کی ویکسین، دیگر ادویات، جان بچانے والی ادویات کوئی چیز تو ملے۔ اوپر سے 1240 ارب روپے غائب۔ یہ کوئی مذاق تو نہیں کہ عوام کے نام پر وصول کیے گئے اربوں روپے کسی حساب کتاب کے بغیر ٹھکانے لگادیے جائیں اور کوئی گرفت میں نہ آئے۔ جو لوگ آج پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ہیں وہ لوگ جب حکومت میں ہوتے تھے تو وہ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بھی بیرونی امداد اسی طرح ٹھکانے لگائی تھی۔ عوام کو دھمکانے کا سلسلہ بند کرکے ان کو سہولت پہنچانے کی طرف توجہ دی جائے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت اپنا ہدف تو دیکھے۔ انہوں نے ویکسی نیشن کا ہدف کیا رکھا ہے، ایک ماہ قبل روزانہ 30 ہزار افراد کو ویکسین لگانے کا ہدف دیا گیا تھا۔ اگر یہ ہدف 50 ہزار افراد روزانہ بھی کرلیا جائے تو سندھ کی پوری آبادی کو ویکسین لگنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔ پھر اس ویکسین کے نہ لگانے پر عوام کی سم بلاک کرنا، تنخواہیں نہ دینا کسی قسم کا سفر نہ کرنے دینا، یہ سب کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اسمارٹ لاک ڈائون کا خاتمہ سو فی صد ویکسی نیشن سے مشروط کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یہ بتا سکتے ہیں کہ سندھ کی 50 فی صد آبادی کو کب تک ویکسین لگ جائے گی۔ اس کے بعد ہی کسی قسم کی دھمکی دی جائے۔ اول تو ایک جمہوری معاشرے میں عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا کام ہی غلط ہے۔ نقل و حرکت محدود کرنا بھی بہت حساس معاملات میں جائز ہوتا ہے۔ لیکن تنخواہیں بند کرنا، سم بند کرنا یہ سب کیوں۔ سب سے پہلے تو تمام ارکان پارلیمنٹ اپنی ویکسی نیشن کا سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ڈالیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر وزیراعظم سمیت تمام سیاسی رہنمائوں کے خلاف کارروائی کریں جو کھلے عام ایس او پیز کے بغیر گھومتے پھر رہے ہیں۔ ساری پابندیاں عوام سے کیوں کرائی جارہی ہیں۔ حکومت اپنی ذمے داری تو پوری کرے اور 1240 ارب روپے کا حساب بھی دے۔