کراچی: جعلی پولیس مقابلے کا مقدمہ درج‘4اہلکارگرفتار

56

کراچی(نمائندہ جسارت)سچل پولیس کے جعلی مقابلے میں زخمی طالبعلم نے پولیس کو دےے گئے بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے رکنے کے باوجود ہم پر فائرنگ کی۔ دونوں زخمی بیت اللہ اور آصف جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں‘زخمی طالبعلم بیت اللہنے بیان میں کہا کہ موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے پولیس نے رکنے کا اشارہ کیا، ہم نے آگے رکتے ہی ہاتھ بھی اوپرکےے تاہم پولیس نے رکنے کے باوجود فائرنگ کردی‘ پولیس نے کہا، تم لوگ چور ہو اور ہتھکڑی لگا دی‘ اسپتال منتقل کیا اور کہا تمہارے ساتھ اور بندے بھی تھے‘ آپریشن کے وقت ہتھکڑی نکال دی گئی‘ پتا نہیں کیوں ڈکیت سمجھا، اللہ ان کو سمجھے۔ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اے ایس آئی اصغر علی، اہلکار عبدالقادر ، کانسٹیبل صابر اور کانسٹیبل ڈرائیور بہادرکو گرفتار کرکے زخمی طالب علم بیت اللہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا‘ مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ چاروں ملزمان نے 15 سالہ بیت اللہ اور 14 سالہ آصف کو زخمی کیا‘ پولیس موبائل میں بیٹھے اہلکاروں نے جان سے مارنے کی کوشش کی‘ دونوں بچے جناح اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اشارہ دینے کے بعد نہ رکنے پر طالب علموں کو ڈاکو قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقابلے کے بعد پولیس افسران مسلسل مقابلے کی تفصیلات مانگتے رہے اور ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکار زخمیوں کو ڈاکو بتاتے رہے‘ انہوں نے جائے وقوع کی وڈیو ، تصاویر اور دیگر تفصیلات افسران کو نہیں بتائیں جس پر ڈویژنل افسرکو شک ہوا تو معاملے کی تحقیقات کی کرائی گئیں۔