بیلجیئم نے متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد پر سفری پابندی عائد کردی

228

برسلز: بیلجیئم نے ملک میں کورونا وائرس کی بھارتی قسم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے برطانیہ اور پاکستان سمیت 26 ممالک کو ‘بہت پریشان کن’ ملکوں کی صف میں شامل کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ‘بہت پریشان کن’ ملکوں کی صف کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک کے شہریوں کے لیے سفری سہولیات کے وہ قوانین قابل عمل نہیں ہوں گے، جو یورپ اپنے شہریوں کو فراہم کرے گا اور انہیں پہلے ہی کی طرح سفر کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کے علاوہ قرنطینہ کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ بیلجیئم میں گذشتہ چند دنوں سے عالمی وباء کورونا وائرس کی بھارتی قسم کے مثبت کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور یہ شرح 6 فیصد سے زائد تک جا پہنچی ہے۔

خیال ر ہے بیلجیئم میں اس وائرس کا ماخذ برطانیہ بتایا جاتا ہے، جہاں پڑوسی ہونے کے باعث ایک کثیر تعداد کا روزانہ آنا جانا رہتا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل بھارت سے آنے والے طالبعلموں کے ایک گروپ میں بھی اس کی تشخیص کی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  حالیہ صورتحال کے پیشِ نظر بیلجیئم کے معروف وائرالوجسٹ اور اسائلم اور امیگریشن کے وزیر سامے مہدی نے تجویز پیش کی تھی کہ مذکورہ وائرس سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد پر پابندی عائد کی جائے،  جس پر بیلجیئم کی حکومت نے وائرس کے حوالے سے 26 پریشان کن ممالک کی نئی فہرست جاری کی ہے۔

واضح رہے  ان ممالک میں بھارت سمیت برطانیہ، پاکستان، بنگلہ دیش، بوٹسوانا، جنوبی افریقہ، اردن، کانگو، قطر، نیپال، برازیل، بولیویا، پیراگوئے، جارجیا، یوراگوئے، چلی، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو، کولمبیا، یوگنڈا، ارجنٹائن، زمبابوے، ایسواتینی، لیسوتھو، نمیبیا، موزمبیق، سرینام اور پیرو شامل ہیں۔

بیلجیئم حکومت کا کہنا ہے کہ  ان تمام ممالک کے شہریوں کو پہلے ہی کی طرح قرنطینہ سمیت سفر سے متعلق تمام پابندیوں کا سامنا رہے گا۔

بیلجیئم کے وزیر صحت فرانک واندن بروک نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے بہت خوش نہیں ہیں لیکن ہمیں ان ممالک میں کرونا سے پیدا ہونے والی نئی صورتحال سے اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنا ہے۔