(ن) لیگ ایسٹ انڈیا کمپنی کی جدید شکل ہے، فواد چوہدری

124

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ (ن) لیگ ایسٹ انڈیا کمپنی کی جدید شکل ہے، کمپنی نے ہندوستان اور مغلوں کے ساتھ جو کیا مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت نے اس صدی میں آکر کیا، دونوں نے یہاں سے پیسہ لوٹا اور باہر منتقل کیا اور اب وہاں پولو میچ دیکھ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیلئے اچھی خبر ہے کہ جی ٹوئنٹی نے 13.7 ارب ڈالر کا قرضہ اس سال کے آخر تک ملتوی کردیا ہے، یہ ہماری معیشت کیلئے اچھی خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن کے تحفظات پر انہیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مشین کا ٹیسٹ کرایا اور ماہرین کی جانب سے ان کے سوالات کے جوابات دیئے گئے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 66 نکاتی ایجنڈا دیا گیا جس پر وہ مشین پورا اتری، ٹیکنالوجی الیکشن کمیشن کی خواہشات کے مطابق پورا اتری ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ اگلے ضمنی الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کا استعمال کیا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ای وی ایم کے حوالے سے وزارت قانون نے اجلاس میں بتایا کہ اس حوالے سے قانون سازی کیلئے قومی اسمبلی میں منظوری کے بعد اب سینیٹ کو بھجوایا جا چکا ہے جبکہ نادرا کے حوالے سے بھی رپورٹ پیش کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ ہمارا پہلا مقصد ہے جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا بھی دوسرا حصہ ہے، سمندر پارپاکستانیوں کو ہم پاکستانی سیاست کا سو فیصد اہم جز سمجھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حق انہیں لازماً دیا جانا چاہیے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مجھے حیرت ہوئی جب مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستان کے مسائل کا کیا علم ہو گا، ہم حیران ہیں کہ جس جماعت کی ساری لیڈر شپ لندن میں مقیم ہے، کاروبار باہر ہے، نواز شریف خاندان کا صرف ٹیکس دیکھ لیا جائے کہ وہ پاکستان میں کتنا ٹیکس دیتے ہیں اور لندن میں کتنا ٹیکس دیتے ہیں، یہ در اصل ماڈرن ایسٹ انڈیا کمپنی ہے جسے ہم نون لیگ کہتے ہیں، یہ سب کچھ پاکستان سے باہر لے جا چکے ہیں اور جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان اور مغلوں کے ساتھ کیا تھا وہی کام نون لیگ نے اس صدی میں دہرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرق صرف یہ ہے کہ شریف خاندان دیسی ولایتی ہیں اور ایسٹ انڈیا کمپنی والے ولایتی تھے، جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی پیسہ لوٹا تھا اس طرح نون لیگ نے ہی کیا ہے، پاکستان آئے لوٹا اور باہر چلے گئے اور اب پولو میچ دیکھ رہے ہیں، گوالمنڈی میں پٹھو گرم کھیلنے والے اب لندن میں پولیو بونی رکھے ہوئے ہیں اور سارے خاندان کی تصویریں بنا رہے ہیں، پاکستان سے منتیں ترلے کر کے اور بیماری کا بہانہ بنا کر باہر گئے ہیں اور اب پولو دیکھ رہے ہیں، جس پر قوم افسردہ ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت کو عدالتوں سے بھی افسوس ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ نظام ہے اور باہر بیٹھے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر تو پاکستان کا قانون ہی لاگو نہیں ہوتا ہے، جبکہ ان کے چمچے بیٹھ کر دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ سے مطالبہ ہے کہ شہباز شریف کے کیس کو ڈلے ٹو ڈے دیکھا جائے، ایف آئی اے نے بھی انہیں طلب کرلیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں خیراتی اداروں کی رجسٹریشن کے حوالے سے سفارشات کی ذمہ داری وزارت قانون کو دی گئی ہے، پاکستان میں سینماز 30جون تک کھولنے کی تجویز ہے اور ٹیلی ویژن چینل کیبلز کو ڈیجیٹلائز کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ باہر ممالک سفارتخانوں میں جو افسران مقامی کمیونٹی کے کام نہیں کریں گے انہیں واپس بلا لیا جائے گا جبکہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پی ایس ڈی پی کے تحت چلنے والے ترقیاتی منصوبے پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ ہو گی اور یہ مانیٹرنگ تھرڈ پارٹی کرے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن وفاقی بجٹ کو پڑھے پھر مثبت تجاویز سامنے لائے، اگر اپوزیشن تنقید کو بہانہ بنا کر توہین کرے گی تو وہ قابل قبول نہیں ہو گا، اپوزیشن نے اگر انتخابات کرانے ہیں تو انہیں ہمارا بھی نقطہ نظر سننا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے تحت کل منصوبے 900ارب روپے کے ہیں جس سے پاکستان کی ترقی و تعمیر میں اہم کردار ادا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے سارے اتحادی وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں یکجا ہیں اور وفاقی بجٹ کو باہمی اتفاق سے آسانی سے منظور کروالیں گے۔