اسلامو فوبیا اور مغربی دنیا

225

وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں ایک بار پھر عالمی رہنمائوں یا مغربی دنیا کی قیادت پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے۔ نفرت پھیلانے والی ویب سائٹس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔ عمران خان نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ مغربی ممالک کی قیادت اس مسئلے کو نہیں سمجھ رہی۔ آزادیٔ اظہار کی حد وہاں تک ہے جہاں تک دوسرے انسان اس سے مجروح نہ ہوں۔ کینیڈین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے مزید کہا کہ اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ مغربی دنیا ان کا نوٹس لے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کینیڈا کے صوبے انٹاریو کے شہر لندن میں پاکستانی خاندان کے چار افراد کو ٹرک سے کچلنے کا واقعہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹسن ٹروڈو کے سامنے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کینیڈا کے بعض قوانین بھی اسلامو فوبیا کا سبب بن رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے کیوبل سٹی کا حوالہ دیا جس کے تحت اساتذہ، پولیس اہلکار اور دوسرے شعبوں سے وابستہ لوگ اپنی مخصوص مذہبی علامتوں کو ظاہر نہیں کرسکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ سیکولر انتہا پسندی کی ایک صورت ہے۔ عمران خان مسلم دنیا کے واحد رہنما ہیں جو اسلامو فوبیا کا معاملہ پوری شدت سے اور بار بار اُٹھا رہے ہیں لیکن ان کی یہ بات ناقابل فہم ہے کہ انہیں اس سلسلے میں مغربی دنیا کی قیادت سے بڑی امیدیں ہیں۔ حالاں کہ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مغربی دنیا کی مذہبی و سیاسی قیادت اور مغربی دنیا کے دانش ور ہیں جنہوں نے مغربی دنیا میں اسلام کا خوف پیدا کیا ہے۔ صلیبی جنگوں کا ذکر تو اکثر مسلمانوں نے سن رکھا ہے مگر اکثر مسلمانوں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ جنگیں کیوں اور کیسے شروع ہوئی تھیں۔ تاریخ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ یہ جنگیں کسی عام آدمی نے شروع نہیں کی تھیں بلکہ 1095ء میں اس وقت کے پوپ اربن دوم نے کلیسا میں کھڑے ہو کر ایک تقریر کی۔ پوپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ معاذ اللہ اسلام ایک شیطانی مذہب ہے اور میرے قلب پر یہ بات القاء کی گئی ہے کہ عیسائیوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس شیطانی مذہب اور اس کے ماننے والوں کو صفحہ ٔ ہستی سے مٹادیں۔ پوپ اربن دوم یہ تقریر کرکے نہیں رہ گیا بلکہ اس نے تمام عیسائی ممالک کو ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کی ہدایت کی۔ پوپ کی یہ ہدایت کارگر ثابت ہوئی۔ تمام عیسائی ممالک 1099ء میں ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوئے اور ان صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا جو کم و بیش دو سو سال جاری رہیں۔ ایک تاریخی حوالے کے مطابق ان جنگوں میں 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے دوسرے تاریخی حوالے کے مطابق ان جنگوں میں 30 لاکھ لوگ مارے گئے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پوپ تھاجس نے اسلامو فوبیا پیدا کرکے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا۔ ان صلیبی جنگوں کے نفسیاتی اثرات آج بھی مغرب کے اجتماعی ذہن پر موجود ہیں۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ وہ دور جسے نو آبادیاتی زمانہ کہا جاتا ہے بھی مغرب کی قیادت ہی کا تخلیق کردہ ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ کسی مسلمان نے برطانیہ، فرانس یا اٹلی کے کسی شہر پر حملہ کردیا تھا بلکہ یورپی طاقتیں 18 ویں اور 19 ویں صدی میں کسی اشتعال کے بغیر اپنے اپنے جغرافیے سے نکلیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری مسلم دنیا پر قابض ہوگئیں۔ فرق یہ تھا کہ کہیں انگریز قابض تھے اور کہیں اطالوی مسلط تھے۔ کہیں جرمن مسلمانوں کا گلا دبوچ رہے تھے اور کہیں فرانسیسی مسلمانوں کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے تھے۔ یورپی طاقتیں عالم اسلام پر قابض ہوگئیں تو ان کے ساتھ مغرب کی ان دانش وروں کی کارستانیاں بھی آئیں جنہیں حرف عام میں مستشرق یا مشرق کا ماہر کہا جاتا تھا۔ ان مستشرقین نے قرآن پر حملے کیے۔ رسول اکرم کی سیرت طیبہ کو نشانہ بنایا۔ مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کیا اور اس طرح انہوں نے مشرق و مغرب میں اسلامو فوبیا کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مغرب کے دانش وروں نے اس خیال کو عام کیا کہ اسلام معاذ اللہ ایک جھوٹا مذہب ہے اور معاذ اللہ رسول اکرمؐ ایک جھوٹے نبی ہیں۔ انہوں نے اس خیال کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ورنہ اس مذہب میں ایسی کوئی بات نہیں کہ روئے زمین پر اس کا ڈنکا بج رہا ہوتا۔ انہوں نے اسلام کو ایک پسماندہ مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اس خیال کو بار بار دہرایا کہ اسلام عورتوں کے سخت خلاف ہے اور اس کا عقل و خرد سے کوئی تعلق نہیں۔ ان خیالات نے مغرب میں اسلامو فوبیا کو مزید ہوا دی۔ یہ 2009ء کا المناک واقعہ ہے کہ عیسائیوں کے ایک اور پوپ نے ایک اور صلیبی جنگ شروع کرنے کی سازش کی۔ پوپ بینی ڈکٹ شش دہم نے 2009ء میں ایک بازنطینی بادشاہ مینوئل دوم کا ایک فقرہ تاریخ کی کتاب سے نکال کر فضا میں اچھال دیا۔ اس فقرے میں مینوئل دوم نے کہا تھا کہ اسلام کیا نیا لایا ہے اور یہ کہ رسول اکرمؐ نے اسلام تلوار کے زور پر پھیلایا۔ پوپ بینی ڈکٹ نے اس فقرے کو ایک لمحے میں عالمگیر شہرت کا حامل بنا کر صلیبی جنگوں کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ اتنی بڑی واردات تھی کہ اس پر اگر عالمی جنگ چھڑ جاتی تو یہ معمولی بات ہوتی۔ اس سے پہلے نائن الیون کا واقعہ ہوچکا تھا اور امریکا کے صدر جارج بش نے امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے صاف کہا تھا کہ ہم نے ایک کروسیڈ یا صلیبی جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ جارج بش کے اس بیان کے بعد اٹلی کے وزیراعظم سلویو برلسکونی کا بیان سامنے آیا۔ اس بیان میں برلسکونی نے کہا کہ مغربی تہذیب اسلامی تہذیب سے برتر ہے اور اس نے جس طرح کمیونزم کو شکست دی ہے اسی طرح وہ اسلامی تہذیب کو بھی شکست سے دوچار کرے گی۔ اٹلی کے وزیراعظم کے اس بیان کے بعد جارج بش کے اٹارنی جنرل ایش کرافٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک کانفرنس سے خطاب کر ڈالا۔ انہوں نے خطاب میں فرمایا کہ عیسائیت کا خدا اسلام کے خدا سے برتر ہے۔ اس لیے کہ ان کے بقول اسلام کا خدا ایسا خدا ہے جو اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنے ماننے والوں کی شہادت کی صورت میں جان کا نذرانہ قبول کرتا ہے۔ اس کے برعکس عیسائیت کا خدا ایک ایسا خدا ہے جس نے انسانوں کی نجات کے لیے اپنے بیٹے سیدنا عیسیٰؑ کی قربانی دے دی۔ یہ تمام باتیں بھی اسلامو فوبیا کو عام کرنے والی تھیں۔ چناں چہ نائن الیون کے بعد تمام مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا۔ مساجد پر حملوں کی تعداد بڑھ گئی۔ فرانس سمیت یورپ کے کئی ممالک میں برقعے اور اسکارف پر پابندی عائد کردی گئی۔ بدقسمتی سے مغربی دنیا کے سیاسی رہنما اور ذرائع نے اسلامو فوبیا کو روکنے کے بجائے اسے آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر مغرب اسلام کے خوف کو کیوں بڑھاتا رہا ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب ہزار کوشش کے باوجود اسلام اور اس کے اُبھار کو ختم نہیں کرسکا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بے پناہ پروپیگنڈے کے باوجود اسلام تیزی کے ساتھ مغرب میں پھیل رہا ہے۔ حالاں کہ اسلام کے پاس نہ سیاسی طاقت ہے، نہ معاشی طاقت ہے اس کے پاس نہ سائنس ہے، ٹیکنالوجی ہے، مغرب یہ دیکھتا ہے تو اس سے مزید خوف محسوس کرنے لگتا ہے اور وہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے دائرے کو مزید وسیع کردیتا ہے۔