عمران خان مشکل میں ‘ جہانگیر کو ریلیف دیا تو شہباز کوبھی دینا پڑیگا

76

کراچی ( تجزیاتی رپورٹ: محمد انور) وزیراعظم عمران خان نے عید کی تعطیلات کے بعد پیر کو حکومتی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہباز شریف سمیت کسی سے بھی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ شہباز شریف کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے کیس ہیں، بس قومی دولت لوٹنے والوں کو چھوڑا نہیں جاسکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی طرف سے زور دیتے ہوئے یہ وضاحت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ شہباز شریف سمیت دیگر کرپشن میں ملوث سیاسی شخصیات کو ریلیف دینے کے لیے روز بروز دباؤ بڑھ رہا ہے ، لیکن یہ ابھی تک نہیں کہا جاسکتا کہ وزیراعظم اس پریشر میں آرہے ہیں یا نہیں۔تاہم وزیراعظم نے اجلاس کو یہ بھی بتانا ضروری سمجھا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے، ہماری 25 سالہ سیاسی جدوجہد انصاف اور قانون کی حکمرانی کی جدوجہد ہے جو جاری رہے گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے لیے مشکل یہ ہے کہ اگر انہوں نے کرپشن کے الزامات کی تحقیقات میں اپنے دوست جہانگیر ترین کو کسی قسم کی نرمی دی تو شہباز شریف سمیت دیگر سیاسی افراد کے لیے بھی ان مقدمات میں آسانی فراہم کرنی ہوگی بصورت دیگر وزیراعظم اور ان کی حکومت پر عوامی و سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔وزیراعظم پر صرف کرپشن میں ملوث خاص افراد کو ریلیف دینے کا پریشر نہیں ہے بلکہ ملک کے بگڑتے ہوئے معاشی حالات کا بھی دباؤ ہے جس سے وہ جلد از جلد باہر نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگرچہ وزیراعظم کے مشیران نے پیر کو اجلاس میں وزیر اعظم عمران کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ کورونا وبا کے باوجود ملکی معاشی اعشاریوں، برآمدات اور ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ مہنگائی پوری دنیا کا مسئلہ ہے پاکستان میں مہنگائی دیگر ممالک کی نسبت کم ہے، خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی سب سے کم قیمت پاکستان میں ہے۔ وزیراعظم مشیروں کا موقف سننے کے باوجود مطمئن نہ ہوسکے اور انہوں نے زور دیا کہ حکومت مہنگائی میں کمی کے لیے ہر ممکن انتظامی اور پالیسی فیصلے کرے۔