پیام رمضان

115

چھکا چھکا ! گلی میں سے آتی ہوئی آواز فریال کو کافی پریشان کر رہی تھی رات کے تین بج چکے تھے وہ قرآن کی تلاوت کے بعد تہجد کی نماز کے لئے اٹھی ہی تھی دل چاہ رہا تھا کہ گلی میں زور زور سے جاکے بولے کہ خاموش ہو جاؤ لیکن کرتی تو کیا کرتی یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا ہر گلی میں کرکٹ میچ ،لگتا تھا کہ گویا رمضان کی بہاریں کرکٹ میچ سے استفادہ کرنے کے لئے ہی آتی ہو فریال یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اتنے میں گھر کی گھنٹی بجی اور دروازے پر شعیب اور ثاقب کو دیکھ کر اس نے اپنا سارا غصہ دونوں بھائیوں پر اتار دیا، تم دونوں کو سمجھ نہیں آتی کہ رمضان عبادت کے لئے ہوتا ہے نہ کہ کرکٹ میچ کھیلنے کے لئے ۔آپی اتنا غصہ آپ کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ، ثاقب کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے بولا اور شعیب نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں برآمدے سے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور دونوں بھاگم بھاگ کمرے میں پہنچ گئے ان کے جاتے ہی فریال دوبارہ سے تہجد کی نماز کے لیے کھڑی ہو گئی ۔رمضان کے روزے گزرتے جا رہے تھے دوسرا عشرہ شروع ہونے کو تھا فریال بچوں کی وجہ سے نہ صرف پریشان تھی بلکہ وہ سوچ رہی تھی کہ ان کی وجہ سے گلی کے بزرگوں کو بھی آرام کا موقع نہیں مل پاتا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی افسوس تھا کہ نوجوانوں کا قیمتی وقت عبادت اور آرام کے بجائے کھیل میں ضائع ہو رہا ہے اس نے دل میں ٹھان لی کہ کسی نہ کسی طریقے سے ان بچوں کو ضرور سمجھائے گی اور بس پھر کیا تھا اس نے دماغ میں ایک منصوبہ تیار کیا۔ ثاقب اور شعیب ادھر آؤ جی آپی بولیں ثاقب اور شعیب نے بیک وقت جواب دیا میں سوچ رہی ہوں کہ اس دفعہ تمہارے دوستوں کو سحری پر بلایا جائے واہ واہ آپی آپ اور یہ بات ہمیں تو یقین نہیں آرہا کہ کبھی آپ ہمارے دوستوں کو بھی مہمان نوازی کا شرف بخش سکتی ہیں ۔بس بس زیادہ باتیں مت بناؤ ایک کام کرو انہیں ہفتے کے روز اپنے گھر سحری پر بلا لو ہم تینوں مل کر انتظام کرلیں گے یہ بات سن کر شعیب اور ثاقب کی تو خوشی کی انتہا نہ رہی بس دونوں بھائی اپنے دوستوں کے پاس پہنچے اور بروز ہفتہ سحری کی دعوت دے کر آ گئے فریال نے رات سے ہی پائے کا سالن چڑھا دیا روٹی اور دیگر لوازمات کی ذمہ داری ثاقب اور شعیب کے اوپر لگا دی آج کرکٹ کا میچ بھی نہیں تھا سب بچے تراویح پڑھ کر تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے کیونکہ انہیں تین بجے شعیب اور ثاقب کے گھر جانا تھا بس جیسے ہی گھڑی کا کانٹا تین پر پہنچا ڈوربیل پر تو جیسے دھاوا بول دیا گیا تھا اس سے پہلے کہ آپی کا پارہ اوپر جاتاشعیب اور ثاقب نے دروازہ کھلا رکھنے پر ہی عافیت جانی سارے دوست ہنسی مذاق میں مشغول تھے کہ اچانک مسجد کے امام صاحب تشریف لے آئے سب تعظیم میں کھڑے ہو گئے اور امام صاحب کو سلام پیش کیا امام صاحب نہایت ہی خوش طبیعت اور اچھے اخلاق کے حامل انسان تھے گو کہ ان کا موجود ہونا شعیب اور ثاقب کو اعزاز لگ رہا تھا مولانا صاحب نے باتوں ہی باتوں میں تمام لڑکوں کو رمضان کی اہمیت اور فضائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان المبارک کی ایک ایک گھڑی بہت قیمتی ہے اگر کوئی رمضان المبارک کو پائے اور پھر اس میں بھی اللہ کو راضی نہ کر دے تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید ہے حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کی پہلی دوسری اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے آمین فرمایا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین میرے سامنے آئے تھے اور جب میں نے منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی لہذا اس مہینے کو کھیل کود کے بجائے قیمتی بناؤ زیادہ عبادت قرآن پاک کی تلاوت نماز دعا اور عبادت میں گزارو اور پھر آرام کرو تاکہ اگلے دوست کے لئے چاک و چوبند رہو اس کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک میں سب دوست مل کر کوئی ایسی سوشل ایکٹیوٹی ترتیب دو کہ جس سے غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے بھلائی کا کوئی راستہ کھلے اس طرح سے آپ لوگوں کو ایک ایکٹیوٹی بھی مل جائے گی اور آپ کا یہ قیمتی وقت برباد بھی نہیں ہوگا بس مولانا صاحب کی یہ پیاری پیاری باتیں سن کر تو محفل کا لطف دوبالا ہو گیا آج مولانا صاحب نے ماہ رمضان المبارک کا اتنا خوبصورت پیام دیا تھا کے اسی پیام رمضان کو لے کر تمام دوستوں نے اپنے ارد گرد کے ضرورت مند لوگوں کی لسٹ بنائی اور اگلے دن سب نے پیسے جمع کر کے کام شروع کر دیا کسی کے حصے میں راشن خریدنے کی ذمہ داری تو کسی کے حصے میں کپڑے اور ضروریات زندگی بھی، بس اس طرح سے جب وہ تراویح کے بعد بیٹھتے تو اب کرکٹ میچ کے بجائے اپنی مہم کے بارے میں نہ صرف بات چیت کرتےبلکہ اگلے دن کا لائحہ عمل بھی ترتیب دیتے اور ہاں ہر سحری پر وہ پائے ضرور یاد کرتے جو کہ فریال آپی نے بہت محنت سےبنائے تھے اور فریال آپی کی محنت آخر کو رنگ لے آئی پائے اور پیام رمضان دونوں ہی بچوں کے دل کو بھا گئے اور انہوں نے ٹھان لی کہ انشاء اللہ اس رمضان میں اللہ رب العزت کو ضرور راضی کریں گے ۔