فرانسیسی سفیر کو نکالنے سے نقصان پاکستان کا ہوگا،عمران خان

209

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سفیر کونکالنے سے فرانس کوکوئی فرق نہیں پڑے گا،نقصان الٹاپاکستان کا ہوگا۔پیرکو قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے سے دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی؟ آزادی اظہار کے نام پر کوئی اور یورپی ملک یہ حرکت کر دے گا، فرانس سے تعلق توڑنے کا مطلب یورپی یونین سے تعلق توڑنا ہے،جب ہم فرانس کے سفیر کو واپس بھیجیں گے اور تعلق ختم کریں گے تو یورپی یونین سے تعلق ختم ہو جائے گا، یہ ممالک پاکستان سے تجارت ختم کر دیں گے، ہماری 50 فیصد ٹیکسٹائل کی برآمدات یورپی یونین کو جاتی ہیں، برآمدات رکنے سے ملکی صنعت کا پہیہ رک جائے گا ، ہمارے روپے پر دباؤ پڑے گا، بیروزگاری اورمہنگائی بڑھے گی ،غربت میں اضافہ ہوگا۔وزیراعظم نے کالعدم ٹی ایل پی کے مظاہروں پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں کا مقصد ایک لیکن طریقہ کار مختلف ہے،گزشتہ ہفتے افسوسناک واقعات رونما ہوئے، ایک جماعت کو ایسے لگا کہ شاید انہیں باقی پاکستانیوں سے زیادہ نبی ﷺ سے زیادہ پیار ہے حالانکہ ہم بھی انہی کی طرح چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو لیکن ہمارا طریقہ کار ان سے مختلف ہے۔عمران خان کاکہنا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی چاہتی ہے کہ ملک میں مظاہرے ہوں، جرم کہیں اور ہو اور خودکش حملہ خود پر کرلیاجائے یہ کونسی عقل مندی ہے، دھرنوں اور مظاہروں سے مغربی ممالک کوکوئی فرق نہیں پڑے گا، 50 مسلم ممالک میں کوئی بھی مظاہرے نہیں کر رہا،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس معاملے پر جے یو آئی اور (ن) لیگ نے بھی سیاست شروع کر دی ہے،سلمان رشدی نے جب کتاب لکھی تو اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے، وہ بتائیں کتنی دفعہ انہوں نے اس کے خلاف بیان دیا؟ یہ لوگ آج انتشار پھیلانے کے لیے ان لوگوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔وزیراعظم کے بقول مشکل سے ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے، لوگوں کو روزگار مل رہا ہے، ملکی برآمدات بڑھ رہی ہیں اور روپے کی قدر بہتر ہو رہی ہے۔مظاہروں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اب تک 40 پولیس گاڑیوں کو جلا دیا گیا ہے۔ ان پرتشدد واقعات میں 4 پولیس والے جاں بحق ہوئے جبکہ 800 سے زائد کو زخمی کیا گیا۔ آکسیجن نہ ملنے سے کورونا میں مبتلا مریضوں کی اموات ہوئیں سوشل میڈیا پر دشمن ممالک نے پروپگنڈا شروع کردیا۔ 380 بھارت کے جعلی واٹس ایپ گروپس پاکستان مخالف مہم چلا رہے تھے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ میں جاکر بتائیں کہ مسلمانوں کو حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی سے تکلیف ہوتی ہے، اگر 50 مسلم ممالک مل کر یہ کہیں کہ اگر نبی آخر زماںﷺ کی شان میں کسی بھی ملک کی جانب سے گستاخی کی گئی تو اس کا تجارتی بائیکاٹ کردیں گے تو میں ہی اس مہم کو لیڈ کروں گا، اپنی قوم اور مسلمانوں کو مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم مغرب کو سمجھادیں گے کہ حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے، وہ آہستہ آہستہ سمجھ جائیں گے تو ہمارا مقصد پورا ہوا۔ وزیراعظم نے قوم سے متحد ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ اب وقت ہے کہ ملک کو نقصان نہ پہنچایا جائے، اب ہمارا ملک اوپر کی طرف جارہا ہے، اس کی معیشت اٹھ رہی ہے، ہم اس کو نقصان نہ پہنچائیں۔ قبل ازیں اسلام آباد میں مارگلہ ہائی وے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ بدقسمتی سے دینی اور سیاسی جماعتیں اسلام کو غلط استعمال کرتی ہیں اور خود کو نقصان پہنچاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سارے پاکستانی حضرت محمد ﷺ سے محبت اور عشق کرتے ہیں، اپنے ملک میں توڑ پھوڑ سے کسی اور کو فرق نہیں پڑے گا،وہاں ہر تھوڑی دیر کے بعد فتنہ کردیاجاتاہے اور نقصان ہم اپنا کرلیتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب مغرب میں بھی شان رسالت میں گستاخی کا سوچ کر خوف آئے گا، میں نے مسلم ممالک کے سربراہوں کو ملا کر مہم شروع کردی ہے، اقوام متحدہ ،یورپی یونین میں کیس پیش کریں گے، جب ہم مسلم ممالک کے سربراہوں کوملا کر مہم چلائیں گے تو سب کوفرق پڑے گا،اس مہم سے ہم ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ کا حل کریں گے۔