پاکستان اصولی موقف پر کمپرومائیز کیے بغیر تجارت کرے ،میاں زاہد حسین

57

کراچی (اسٹاف رپورٹر )ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے سرد جنگ کے عروج میں بھی روس اور مغربی ممالک کے مابین تجارت بند نہیں ہوئی تھی اس لیے ہمیں بھی بڑھتی ہوئی غربت کم کرنے کے لیے اصولی موقف پر کمپرومائیز کیے بغیرتمام پڑوسی ممالک سے کھل کر تجارت کرنی چاہیے۔ کشمیر کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان معاشی لحاظ سے اتنا مستحکم نہ ہو جائے کہ بھارت سمیت کوئی ملک اسے ناراض کرنے کا خطرہ نہ مول لے سکے کیونکہ تمام سفارتی و سیاسی حربے ناکام ہو چکے ہیں اورجنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے سارک کے خطے کی ترقی رکی ہوئی ہے جس میں بنیادی کردار پاکستان اور بھارت کے مابین تنائو کا ہے۔ بھارتی تعصب،ہٹ دھرمی اور جنگی جنون کی وجہ سے افریقا سے زیادہ غریب اس خطے میں رہتے ہیں اور ان کا معیار زندگی مسلسل گر رہا ہے جسے بہتر بنانے کا سب سے سہل راستہ رواداری اورباہمی تجارت ہے۔ پاکستان پڑوسی ممالک سے سرد تعلقات یا لا تعلق ہو کر ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو ستر سال میں ہو جاتا اس لیے متعلقہ پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ چین نے ایران میں چار سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کر لیا ہے جس سے ایران کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔