ویکسین کی خریداری سے 30ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

67

اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا ویکسین کی خریداری سے 30 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اسد عمر کا باضابطہ طور پر خط لکھا گیا ہے جس میں تمام تحفطات سے آگاہ کیا گیا ہے اورکورونا ویکسین کی فروخت میں مبینہ گھپلوں کی نشاند ہی بھی کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کورونا ویکسین کی ایک کروڑ ڈوزیز درآمد کررہی ہے لیکن یہ خریداری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے 23 اپریل کے نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کی خریداری سے30 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ خط میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے 2 اپریل کو وفاقی حکومت کی ہدایت کے خلاف اے جے ایم فارما کو ایک کروڑخوراکوں کا آرڈر دیا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے لکھا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کینسینو بائیو ویکسین کی قیمت کے تعین میں اوورانوائسنگ سامنے آئی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کی قیمت ایک ہزار روپے مقرر کرنے کے بجائے 4ہزار 225روپے منظور کی گئی۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ سرکاری ویکسین ایسے پرائیویٹ اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہونی چاہیے جو پہلے سے درآمد شدہ ویکسین لگا رہے ہوں۔ وفاقی وزیر اسد عمر کو بھیجے جانے والے خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے واضح طورپر کہا ہے کہ کوئی سرکاری اسپتال اے جے ایم فارما کی درآمد کی گئی ویکسین نہیں لگا سکتا ہے۔