صلہ رحمی اورقطع رحمی

90

اس دنیا میں ہر انسان کو بہت سے انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس کے ساتھ بعض ایسے رشتے جوڑ دیتا ہے جو اسے اپنا سمجھتے اور اس کے لیے بہت کچھ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، بھائی، بہن، خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں وغیرہ وغیرہ۔ اگر انسان کا تعلق اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا رہے تو اس کی بہت سی مشکلات آسان ہو جاتی ہیں، ورنہ اس کا ذہن اور دل کشمکش اور الجھن کا شکار رہتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تاکید کی ہے کہ وہ صلہ رحمی کا معاملہ کریں اور قطع رحمی سے پرہیز کریں۔ سیدنا ابوبکرہؓ کہتے ہیں، رسول اللہؐ نے فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ کوئی گناہ دنیا و آخرت دونوں میں ان سے زیادہ عذاب کے لائق نہیں۔ (ترمذی)
’’رحم‘‘ بچّہ دانی کو کہتے ہیں، جس میں ولادت سے پہلے بچہ رہتا ہے۔ چونکہ قرابت کا ذریعہ یہی رحم ہے، اس لیے اس سلسلے کے تعلقات جوڑے رکھنے کو ’صلہ رحمی‘ اور اس میں غفلت برتنے کو ’قطع رحمی‘ کہا جاتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں صلہ رحمی کی بہت تاکید کی گئی ہے اور قطع رحمی سے روکا گیا ہے۔
سیدنا عبدالرحمنؓ، رسول اللہؐ سے حدیثِ قدسی نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے ہی رحم کو پیدا کیا اور پھر اسے اپنے نام سے مشتق کیا۔ جو شخص اسے ملائے گا، (صلہ رحمی کرے گا) میں اسے ملاؤں گا، اور جو اسے کاٹے گا، (قطع رحمی کرے گا) میں اسے کاٹوں گا۔ (ترمذی)
رشتے داری سے خدا کا مکالمہ
سیدنا ابوہریرہؓ کا بیان ہے، نبی کریمؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا، یہاں تک کہ جب پیدا کرنے سے فارغ ہوچکا تو رشتے داری نے عرض کیا: یہ اس شخص کا مقام ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ میں اس سے ملوں جو تجھ سے ملے اور اس سے تعلق قطع کروں جو تجھ سے تعلق قطع کرے۔ رشتے داری نے عرض کیا: ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بس تیرے لیے ایسا ہی ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو: (ترجمہ) ’’سو اگر تم نے جہاد سے منہ موڑا تو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ دنیا میں فساد مچا دو اور آپس میں قطع رحمی کردو‘‘۔ (محمد :22) (بخاری)
قطع رحمی کا انجام
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے انھیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، تو ایسے لوگوں کے حصے میں لعنت آتی ہے اور آخرت میں برْا انجام اْنھی کا ہے‘‘۔ (الرعد: 25)
حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے: ایک قطع رحمی کرنے والا اور دوسرا برا پڑوسی۔ (کنزالعمال)
سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قطع رحمی کرنے والا (توبہ یا سزا پائے بغیر) جنت میں داخل نہ ہوگا‘‘۔ (بخاری)
صلہ رحمی کا حکم
صلہ رحمی واجب ہے۔ رشتے داروں سے موقع بہ موقع ملاقات کی جائے کہ اس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انھیں سلام و تحیہ پیش کیا جائے، ان کے ساتھ تعاون و احسان کا معاملہ کیا جائے۔ جس رشتے دار سے جتنا قریبی تعلق ہوگا، وہ اتنا زیادہ صلہ رحمی کا مستحق ہوگا‘‘۔ (درمختار مع رد محتار)
صلہ رحمی کا لحاظ
عدل و انصاف تو دوست و دشمن سب کے لیے برابر اور یکساں ہے اور احسان و مروت میں بسا اوقات خصوصیت اور رعایت بھی ملحوظ رہوتی ہے۔ یہ صلہ رحمی اگرچہ عدل میں یا احسان میں داخل ہے، لیکن صلہ رحمی اور حقِ قرابت کا لحاظ اور پاس داری ایک مستقل نیکی اور بھلائی ہے اور عظیم احسان ہے… بعض صورتوں میں قریبی حاجت مند رشتے دار کا نان نفقہ واجب ہوجاتا ہے اور بعض صلہ رحمی مستحب ہے، جیسے رشتے دار کو ہدیہ اور تحفہ دینا، تاکہ باہمی محبت اور الفت قائم رہے۔ بہر حال! صلہ رحمی احسان کا فردِ اکمل ہے، اس لیے خاص طور پر اس کو علیحدہ ذکر فرمایا، کیوں کہ قرابت داروں کی روپیے پیسے سے مدد کرنا اور ان کے ساتھ احسان کرنا عظیم عبادت ہے۔ جس میں یہ تین صفتیں عدل، احسان اور صلہ رحمی جمع ہوگئیں اس کی قوتِ عقلیہ اور ملکیہ مکمل اور مہذب ہوگئی۔ (معارف القرآن، ادریسی)