قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

66

اْس وقت اْس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟۔ پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو۔ تو اس کے لیے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے۔ اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو۔ تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے، تو اصحاب الیمین میں سے ہے۔ اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو۔ تو اس کی تواضع کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے۔ اور جہنم میں جھونکا جانا۔ یہ سب کچھ قطعی حق ہے۔ پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ (سورۃ الواقعۃ:87تا96)۔

سیدہ عائشہ جب کوئی ایسی باتیں سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تاکہ سمجھ لیں۔ چنانچہ (ایک مرتبہ) نبی کریمؐ نے فرمایا کہ: جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (یہ سن کر) میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عن قریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: یہ صرف (اللہ کے دربار میں) پیشی کا ذکر ہے۔ لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی (سمجھو) وہ غارت ہو گیا۔ (بخاری) ۔