پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ کرکے عوام پر احسان جتلانے کا تاثر

132

کراچی ( تجزیہ:محمد انور) وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی سے ستائی عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی سمری کو مسترد کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔سرکاری طور پر جاری کی گئی اس خبر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایسا کرتے ہوئے مہنگائی سے پریشان حال قوم پر کوئی بہت بڑا احسان کیا ہے۔حالانکہ عوام اب وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے اس ٹوئٹ کے بعد یہ یقین کرنے پر مجبور ہورہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان،ان کے وزرا اور مشیر قوم کے ساتھ ایسے اعلانات کرکے مذاق کررہے یا قوم کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کیونکہ قوم کو اب ویسے بھی حکمرانوں کی طرف سے کسی قسم کی بھلائی کی امید نہیں رہی۔ موجودہ حالات میں قوم کو ریلیف دینے کا طریقہ یہ نہیں کہ انہیں پہلے مہنگائی میں اضافے کا اشارہ دے کر پہلے پریشان کیا جائے اور بعد میں یہ کہہ کر اضافے نہیں کیا جارہا لوگوں کو ریلیف دینے کا تاثر دے کر ان سے ہمدردی حاصل کی جائے۔ خیال رہے کہ رواں مہینے کی 15 تاریخ کو بھی یہ خبر سرکاری طور پر وائرل کی گئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں 15 روز بعد یعنی 16 فروری سے اضافے کی سمری کو مسترد کردیا ہے۔ اس روز کے بعد دوبارہ پیٹرول و گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بازگشت کی جانے لگی تاہم 28 فروری کو وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے ٹوئٹ کے ذریعے قوم کو بتادیا کہ وزیراعظم نے پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ کرنے کی کی سمری کو مسترد کرکے قیمتوں کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ یکم دسمبر سے 31 جنوری تک پیٹرولیم مصنوعات 16 روپے 37 پیسے مہنگی ہو چکی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت پیٹرولیم سمیت دیگر اشیاکی قیمتوں میں کمی کرنے یا کرانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتی تب ہی اوگرا کو ہر 15 دن بعد پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کے لیے سمری طلب کرنے لگی ہے۔حالانکہ اگر وہ مہنگائی سے پریشان حال لوگوں کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو متعلقہ وزارتوں سے قیمتوں میں کمی کے لیے بھی تجاویز پر مبنی سمری طلب کرسکتی ہے۔ حکومت کو یہ یقین کرلینا چاہیے کہ اب صرف مہنگائی برقرار رکھنے سے نہیں بلکہ کم کرنے سے قوم کو ریلیف اور اطمینان بھی حاصل ہوسکے گا ۔