حیدرآباد :ٹریفک پولیس نے رشوت کا بازار گرم کردیا

14

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد سٹی میں ٹریفک پولیس نے پرائیویٹ مافیا بنا رکھی ہے۔ ریشم بازار، چھوٹکی گھٹی، کوہ نور چوک، گاڑی کھاتا اور قاسم چوک سمیت دیگر شہر کے علاقوں میں پانچ سو روپے دہاڑی کمانے غریب عوام کو موٹر بائیک، رکشہ، چنگ چی کو پانچ سو روپے کا چالان کرکے بدحال کیا جارہا ہے۔ سٹی تھانے حیدرآباد میں پرائیویٹ عملہ ٹھیکیداری نظام کے تحت شہریوں کو لوٹ رہا ہے۔ شہر حیدرآباد کے بازاروں میں خریداری کرنے آنے والی بائیکس کو نو پارکنگ دکھا کر زبردستی ٹریفک پولیس کی نگرانی میں پرائیوٹ مافیا درجنوں موٹر بائیک اٹھا کر پانچ سو روپے فی چالان وصول کرتا ہے اور جن ہر مہربانی کرتے ہوئے دوسو چالان کے حساب سے غریب عوام کا خون مافیا چوس رہی ہے۔ ہم ڈی۔آئی جی پولیس حیدرآباد شرجیل کھرل اور ایس ایس پی حیدر آباد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پرائیویٹ ٹریفک پولیس مافیا سے حیدرآباد کے غیور عوام کی جان آزاد کرائیں اور سٹی تھانے کی خالی حدود میں پارکنگ قائم کرائیں۔ یہ بات نیو وحدت کالونی ایکشن کمیٹی حیدرآباد کے چیئرمین شاہد سومرو نے سٹی تھانہ حیدرآباد کے غنڈہ ٹیکس چالان سے متاثرہ شہریوں سے بات چیت میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے رشوت خوری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ سٹی کے اندر حیدرآباد پولیس کے افسران کو پارکنگ سٹی پلان جوڑنے کی سخت ضرورت ہے اور سوزکی بھتا مافیا سے حیدرآباد کے عوام کو بچایا جائے۔