اس آپریشن میں ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا سپاہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

63

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ آپریشن ردالفساد کو 4 سال مکمل ہوگئے ہیں اور آپریشن کے اہم اہداف میں عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا تھا اور اہم اہداف میں دہشتگردوں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے آپریشن ردالفساد کے 4 سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں 2017 ء میں شروع ہوئے اس آپریشن میں ہر پاکستانی آپریشن ردالفساد کا سپاہی ہے اور ٹیررازم سے ٹورازم کا سفر انتہائی کٹھن تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ردالفساد کو 4 سال مکمل ہوگئے ہیں اور آپریشن کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا جبکہ آپریشن کا مقصد قیام امن تھا اور آپریشن ردالفساد کا محور عوام تھے، ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے، آپریشن کے حوالے سے ٹائمنگ بہت اہم ہے، آپریشن کے بعد دہشتگردوں نے ملک کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی۔

 میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے ، آپریشن ردالفساد کا آغاز دہشتگردی کیخلاف ہوا ، عوام کی مدد سے سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ، آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر فور آپریشن بھی کیا گیا  اور 750 کلو میٹر رقبے پر ریاست کی رٹ بحال کی گئی جبکہ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کو ناکام بنایا گیا اور ملک بھر سے 72 ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا  کہ 2017 سے اب تک سیکیورٹی ونگز پر خاص طور پر توجہ دی گئی ہے اور 497 بارڈر ٹرمینلز بھی تعمیر کیے جاچکے ہیں اور  قبائلی اضلاع میں ڈی مائننگ کی گئی جو بڑی پیشرفت ہے جبکہ 48 ہزار بارودی سرنگیں ریکور کی ہیں  اور ڈی مائننگ کے دوران ہمارے 2 جوان شہید اور 119 زخمی ہوئے ، 1684 کراس بارڈر واقعات ہوئے  اور پاک افغان بارڈر پر کام 84 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد ہم نارمل صورتحال کی طرف جا رہے ہیں اور 4 سال میں 37 ہزار 428 اہلکاروں کی ٹریننگ کی ، 3 ہزار 895 لیویز اہلکاروں کی ٹریننگ کی ،417 کیسز ملٹری کورٹس کو ریفر کیے ، 195 دہشتگردوں کو مختلف سزائیں سنائی گئیں  اور ٹارگٹ کلنگ پر موثر طریقے سے قابو پایا جبکہ دہشتگردوں کے بیانیے کو موثر طریقے سے ناکام بنایا  اور 4 سال کے دوران 1200 سے زائد شدت پسند ہتھیار ڈال چکے ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہناتھا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے، کراچی کرائم انڈیکس میں آج 106 نمبر پر ہے، قبائلی اضلاع میں 31 بلین کی لاگت سے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوچکا، ٹیررازم سے ٹورازم تک کا سفر انتہائی دشوار ہے، کورونا وبا کے دوران دانشمندی سے چینلج پر قابو پایا، نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان کے مکمل اہداف حاصل کریں گے۔

ترجمان افواج پاکستان میجر جنرل بابر افتخار کا کہناتھا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے اور پاکستان نے افغان امن کیلیے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے اور پوری دنیا افغان امن کیلیے پاکستان کے کردار کو سراہتی ہے جبکہ پاکستان نے قیام امن کیلیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور پاکستان کے ڈوزیئر کو عالمی برادری نے سراہا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ 23 مارچ کو پریڈ بھرپور طریقے سے ہوگی اور یوم پاکستان کا مقصد ہے ایک قوم، ایک منزل اور عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا  کہ دہشت گردوں نے عوام کی زندگی مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی، گوادر میں نجی ہوٹل پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا ، ردالفساد کے تحت بڑے بڑے دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کیے گیے ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہناتھا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے ، خفیہ ایجنسیوں نے سخت محنت سے بڑے دہشت گرد نیٹ ورک پکڑے  جبکہ آپریشن کے دوران عارضی نقل مکانی کرنے والے 96 فیصد افراد کی گھروں کو باعزت واپسی ہوچکی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پیغام پاکستان نے فرقہ واریت پر قابو پانے میں بہت مدد دی ہے ، ٹیررازم سے ٹورازم کا سفر انتہائی کٹھن تھا اور بھرپور قومی جذبے کے ساتھ 23مارچ کو یوم پاکستان کی پریڈ ہوگی۔

President Arif Alvi on a military vehicle reviews a military parade to mark Pakistan Day in Islamabad on Saturday, March 23, 2019. — AP

 

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ سوشل میڈیا جتنا پھیل چکا اسے موثر انداز میں ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا جبکہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز ی کی روک تھام کے لیے بڑی حد تک کام ہوچکا ہے ۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا تعاقب چھوڑا نہیں، ان کی باقیات بھی ختم کر رہے ہیں جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔