یمن: مغوی افراد کی ماؤں کی اقوام متحدہ سے اپیل

142

مغوی افراد کی ماؤں کی ایسوسی ایشن نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور ان کے خصوصی ایلچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی جماعتوں پر دباؤ ڈالے کہ جن لوگوں نے خواتین اور بیماروں کو اغوا کیا ہے ان کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ مطالبہ اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقدہ قیدیوں اور نظربندوں سے متعلق نگران کمیٹی کے پانچویں اجلاس میں ایسوسی ایشن کے جاری کردہ ایک بیان میں سامنے آیا۔

مغوی افراد کی ماؤں کی ایسوسی ایشن نے 725 عام شہریوں کے اغوا ہونے کی دستاویزات پیش کیں جن میں دو خواتین ، جبری طور پر لاپتہ ہونے کے 119 واقعات  ، حوثی جیلوں میں قید ہونے والے اور بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت کی جیلوں میں زیرِ حراست چھ شہری بھی شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اغوا کیے گئے اور نظربند شہریوں کو عالمی حقوق کے تحت آزادی کا حق حاصل ہے اور ان کی زندگی اور حفاظت کے لئے پوری طرح ذمہ دار اغواکاروں کو ٹھہرایا جانا چاہئے۔ بیان میں اقوام متحدہ اور یمن کے لئے اس کے خصوصی مندوب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ فریقوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ زبردستی لاپتہ شہریوں کو رہا کریں اور انہیں بلا تاخیر ان کے حقوق فراہم کریں۔