قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

98

کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اْن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟۔ کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل۔ کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے؟۔ کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں؟۔کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اْس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں؟۔ (سورۃ الطور:37تا41)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ سبحانہ یاد آجاتا ہے اور اس امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو چغل خور ہیں، اور جو دوستوں (یا محبّت کرنے والوں) کے بیچ میں جدائی کرواتے ہیں اورجو بے قصور (پاک دامن) لوگوں پر گناہ کا الزام  لگاتے ہیں۔
(السلسلہ صحیحہ)