سندھ ہائیکورٹ کا محکمہ آبپاشی کی زمین پر قبضے ختم کرانے کا حکم

49

کراچی(نمائندہ جسارت) سندھ ہائی کورٹ نے دریائے سندھ، نہری نظام کی اراضی پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضوں سے متعلق دائر متفرق درخواستوںپر سندھ بھر میں محکمہ آبپاشی کی زمین سے قبضے ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ فاضل عدالت نے تجاوزات 3 مرحلوں میں ختم کرنے کی حکومت سندھ کی تجویز بھی منظور کر تے ہوئے تجاوزات اور قبضے ختم کرنے کے لیے حکام کو
30 جون 2021ء تک مہلت دے دی۔ فاضل عدالت نے تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے سلسلے میں آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ پیرکو جسٹس محمد اقبال کلہوڑو، جسٹس شمس الدین عباسی اور جسٹس آغا فیصل پر لارجر بینچ نے دریائے سندھ، نہری نظام کی اراضی پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضوں سے متعلق سندھ حکومت کی متفرق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سندھ بھر میں محکمہ آبپاشی کی زمین سے قبضے ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت عدالت عالیہ نے تجاوزات 3 مرحلوں میں ختم کرنے کی حکومت سندھ کی تجویز بھی منظور کر لی۔عدالت نے تجاوزات آبپاشی کی زمین کینالز، سمیت بندوں سے ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت کاکہنا تھا کہ مقرر مدت کے بعد کوئی مہلت نہیں ملے گی، عدالت کاا پنے حکم میں کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں کینالز، مائینر شاخ سمیت بندوں سے 28 فروری تک تجاوزات ختم کی جائیں،عدالت نے دوسرے مرحلے میں کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی آبپاشی کی زمین پر قائم تجاوزات 30 اپریل تک ختم کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تیسرے مرحلے میں رہائشی مقاصد کے لیے بنائی گئی تعمیرات 30 جون تک ختم کرنے کا حکم دیا۔ دوران سماعت تجاوزات سے متعلق دائر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ تمام سرکاری اراضی سے تجاوزات کا خاتمہ عدالت عظمیٰ دے چکی ہے، تجاوزات کے خاتمے کے خلاف اگر کوئی اعتراضات ہیں تو عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جائے، عدالت کا تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے سلسلے میں آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ عدالت عالیہ کی سکھر بینچ نے دریائے سندھ، نہروں کے اطراف اراضی پر قبضے ختم کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ آپریشن سے لاکھوں افراد کے متاثر ہونے پر سندھ حکومت نے عدالت سے رجوع کیا تھا، سندھ حکومت نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ متبادل دیے بغیر آپریشن سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔