حکومتی رویہ دہشتگردوں کی سہولت کاری ہے ،لیاقت بلوچ

100
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطا ب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت )نائب امیر جماعت اسلامی اور سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان لیاقت بلوچ نے کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے شہداء کے مظلوم لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ حکومت کا رویہ ظالمانہ ،سفاکانہ اور دہشت گردوںکی سہولت کاری کا ہے ۔وزیر اعظم مغرور اور ضدی کپتان ہیں ۔عمران خان کا اناڑی پن ،غیر سیاسی ،غیر انسانی اور بلاجواز ہٹ دھرمی کا رویہ قومی سلامتی کیلیے رسک بن گیا ہے ۔سیاسی ،اقتصادی اور پارلیمانی ناکامیوں کی وجہ سے حکومت مسلسل حق حکمرانی کھو رہی ہے ۔حکومت عوام کو جان مال اور عزت کا تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے ۔وزیر اعظم عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلیے بھی تیار نہیں ۔عوام کی ہمدردیاں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ہمیشہ کی طرح ملک میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکنے نہیں دیا جائے گا۔ لیاقت بلوچ نے علامہ سید ساجد نقوی ،علامہ ناصر عباس ،علامہ عارف
واحدی اور علامہ ثاقب اکبر سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مچھ واقعہ کے خلاف ملی یکجہتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جارہا ہے ۔تمام دینی اور محب وطن قوتیں اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کے خلاف متحد ہیں ۔ دریں اثناء لیاقت بلوچ نے لاہور اور فیصل آباد میں عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معاشی اور سیاسی نظام کا شیرازہ بکھیر دیا ہے ۔عوام کے اندر مایوسی اور نا امیدی بڑھتی جارہی ہے ۔حکومت ڈلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے ،وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہیں تیاری کا موقع نہیں ملا ۔حکمران غرور اور تکبرمیں مبتلا ہیں اور کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں۔جماعت اسلامی ظلم و جبر کے اس استحصالی نظام کو بدلنے کی جدوجہد کررہی ہے ۔جب تک ملک میں قرآن و سنت کا پاکیزہ اور عادلانہ نظام نافذ نہیں ہوتامسائل پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلیے عوام کو چہروں کے بجائے نظام کی تبدیلی کے لیے اٹھنا ہوگا۔74سال سے ملک پر مسلط ٹولے نے عوام کی پریشانیوں اور ملکی مسائل میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا کہ آئین نے فوج ،عدلیہ ،مقننہ اور سول بیوروکریسی اور عوامی حقوق کا دائرہ کار متعین کردیا ہے ۔آئین کی بالادستی نظام کو ٹھیک کرنے کی چابی اور بنیادہے ۔ملک میں سول حکومتیں اور مارشل لاز ناکام ہوئے ۔عوام کو مہنگائی ،بے روز گاری ،بدامنی سے نجات نہیں مل سکی ۔اس کا حل یہی ہے کہ 73کے متفقہ آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیا جائے اور انتخابی نظام میں ہر طرح کی مداخلت کو ختم کردیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں آتی ہیں مگر انتخابات پر دھاندلی زدہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو عوام کااعتماد حاصل نہیں ہوتا جس وجہ سے وہ اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہتی ہیں ۔ووٹ چوری ہوتے ہیں۔رزلٹ بدلے جاتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ اپنی پسند کی حکومتیں چاہتی ہیں ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ موجودہ حکومت کا تین سالہ دور ناکامیوں اور نااہلی کا بدترین دور ثابت ہوا ہے ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں بھی مسائل کے حل میں ناکام رہیں مگرعمران خان حکومت نے مختصر عرصے میں ناکامی کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے ملکی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور معاشی حالات کشکول اٹھانے اور بھیک مانگنے سے نہیں بلکہ خودانحصاری کا باعزت راستہ اختیار کرنے اور سود سے پاک معیشت سے بدلیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں۔صورتحال بڑی خرابی کی طرف جارہی ہے ۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے نظریات اور مفادات مختلف ہیں۔