حیدرآباد سانحہ مچھ :کے خلاف دھرنے جاری ،شاراہیں بند،نظام زندگی مفلوج

203
حیدرآباد: سانحہ مچھ کیخلاف دھرنے کے باعث سپر ہائی وے پر گاڑیوںکی قطاریں لگی ہوئی ہیں

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) سانحہ مچھ کے خلاف مختلف شیعہ تنظیموں کی جانب سے جمعہ کے روز بھی حیدرآبادکے اہم مقامات پر احتجاجی مظاہرے ودھرنے کے باعث شاہراہیں بند ہونے سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا، مظاہرین نے اندرون سندھ سمیت دیگر صوبوں کیلیے جانیوالے تما م راستے بند کردیے جبکہ مظاہرین نے اندرون شہر مختلف مقامات پر ٹائر نذر آتش کرتے ہوئے ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا۔ تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت المسلمین ،شیعہ علماء کونسل ،جعفریہ الائنس ودیگر تنظیموں کی جانب سے بائی پاس‘ زیل پاک‘ ٹنڈوجام‘ چینل موری‘ لونی کوٹ ‘ انڈس ہائی وے سمیت دیگر مقامات پر دھرنے و احتجاجی مظاہروں کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیاجبکہ ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔ ایڈووکیٹ رحمان رضا، ڈاکٹر عاشق علی انڑ، ساجد انصاری،علامہ امداد نسیمی، مصطفی حیدری، شمیم نقوی ودیگر نے مختلف احتجاجی مظاہروںسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاحال وزیراعظم کا کوئٹہ پہنچ کر تعزیت نہ کرنا قابل مذمت ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مچھ میں بے گناہ محنت کشوں کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور ملوث اصل ملزمان و سہولت کاروں کو گرفتار کرکے عوام کے سامنے پیش کیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ ملک دشمن قوتیں پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی سازش ناکام ہونے کے بعد اب بے گناہ افراد کو نشانہ بنارہی ہیں ۔پاکستانی عوام ان سازشوںکو اپنے اتحاد کی بدولت ناکام بنادیں گے۔دوسری جانب وادھوا روڈ پرسانحہ مچھ کیخلاف دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل و جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر نے کہا کہ ہم سانحہ مچھ کے مظلوموں کے ساتھ ہیں اورانہیں یقین دلاتے ہیں کہ اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیںانہوں نے کہا کہ مچھ میںمزدوروںپر حملہ کسی ایک مسلک یا گروہ پر نہیں بلکہ امت مسلمہ پر حملہ ہے یہ ایک عالمی سازش ہے تاکہ فرقہ وارانہ آگ بھڑکاکر ملک کو کمزور کیا جاسکے۔