سال 2020: ہیومن رائٹس کمیشن نے لاپتہ افراد کی رپورٹ جاری کردی

188

اسلام آباد: سال 2020کے اختتام پر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے رپورٹ کا اجراءکر دیا ہے جس کے مطابق اس سال ڈی ایچ آر نے جبری گمشدگی کے 56کیسز رجسٹرد کئے ، 11 ازیاب ہوئے جبکہ تین لاپتہ افراد کو ماورائے آئین قتل کر دیا گیا ہے۔

ڈی ایچ آر کے اعداد و شمار کے مطابق  سال 2020میں جبری گمشدگی کے 56 کیس درج کئے گئے جن میں پنجاب سے 19 ، کے پی سے 27 ، سندھ سے 4 ، بلوچستان سے 2 ، آزاد کشمیر سے 2  ہیں جبکہ وزیرستان اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق سارے کیسز لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم کمیشن کو بھجوائے گئے ہیں اور  چیئرپرسن ڈی ایچ آر آمنہ مسعود جنجوعہ کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں 11 لاپتہ افراد رہا ہوئے جن میں فضل شہزاد ، احمد مصطفی کانجو ، عمر بٹ ، محمد فیضان ، محمد طلحہ سمیت دیگر شامل ہیں۔

کمیشن کے مطابق بازیاب ہونیوالوں میں صحافی مطیع اللہ جان ، ساجد گوندل اور وکیل کرنل انعام الرحیم شامل ہیں اور ان تمام افراد کی رہائی کیلئے ملکی عدالتوں میں کیس دائر کئے گئے ہیں جبکہ جبری لاپتہ اسامہ مرزا کا کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔

واضح رہے جبری لاپتہ اسامہ مرزا کا کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کیس میں کمیشن نے پروڈکشن آڈر جاری کیا ہے جبکہ ہائیکورٹ کے جج نے اسامہ کو فوری پیش کرنے کا حکم دیا لیکن اداروں کی جانب سے پولیس مقابلے میں مارے جانے کی کہانی سنا دی گئی ہے۔