سینیٹ میں طریقۂ انتخاب کا قضیہ ـ مفتی منیب الرحمٰن

437

سینیٹ آف پاکستان کے وسط مدّتی انتخابات، جو 11مارچ 2021 سے قبل ہونے ہیں، کے موقع پر وفاقی کابینہ اور وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے یہ موقف آیا کہ سینیٹ کے لیے ووٹنگ Show of Hands یعنی دست نمائی کے ذریعے ہونی چاہیے۔ بنیادی طور پر ووٹ کسی خاص منصب یا تجویز یا قررداد کے حق میں یا خلاف کسی اہل رائے دہندہ کے اظہارِ رائے کا نام ہے۔ عام طور پر، جیسا کہ قومی انتخابات میں ہوتا ہے، یہ اظہارِ رائے خفیہ ہوتا ہے تاکہ رائے دہندہ ہر طرح کے جبر اور دبائو سے آزاد ہوکر اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دے۔ دستورِ پاکستان میں قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے موقع پرڈویژن کا طریقۂ کار رائج ہے، یعنی کسی امیدوار کے حق میں اراکین قومی اسمبلی ایک طرف کھڑے ہوجاتے ہیں اور کھلے عام اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے ووٹ کا اندراج کرتے ہیں، جبکہ اگلے مرحلے میں جب وزیرِ اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے تو اُس وقت رائے شماری خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔

ووٹ کی روح تو یہی ہے کہ اظہارِ رائے آزادانہ ہو، کوئی ظاہری یا پسِ پردہ جبر نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات میں ووٹر پردے کے پیچھے ووٹ کی پرچی پر اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں مہر لگاتا ہے، نہ انگوٹھا لگایا جاتا ہے، نہ دستخط کیا جاتا ہے اورنہ کوئی مخصوص نشان لگایا جاتا ہے تاکہ بعد میں کوئی شناخت کر کے انتقامی کارروائی نہ کرسکے، ووٹ کی جگہ کو خفیہ کیمرے سے ریکارڈ کرنا بھی خلافِ قانون ہے اور آزادیِ رائے کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 سیکشن 122(VI) میں لکھا ہے:’’سینیٹ کے ارکان کے لیے ووٹنگ خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوگی‘‘۔
ووٹ جدید دور کی اصطلاح ہے، لغت میں اس کے معنی ہیں: (۱) ’’رسمی اظہارِ رائے جس کے ذریعے ووٹر پرچہ لکھ کر یا نشان لگاکر یا زبانی بول کر یا ہاتھ اٹھاکر یا علیحدہ کھڑے ہوکر کسی شخص یا قانون یا کسی ایسے اقدام کے بارے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کرے جس میں دوسروں کے ساتھ مشترکہ مفاد رکھتا ہو، (نسیم اللغات اردو)‘‘، (۲) ’’ کسی معاملے کے لیے رائے دینا، عوامی نمائندوں کے انتخاب کے لیے تحریری اظہارِ رائے کی پرچی، رائے دہی، (فیروز اللغات اردو)‘‘۔ کیمبرج ڈکشنری میں لکھا ہے: (۳) ’’خاص طور پر طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق کاغذ پر کسی خاص جگہ نشان لگا کر یا ہاتھ اٹھا کر یا کسی اجلاس میں بول کر رائے دہندہ کا اپنے انتخاب یا رائے کا اظہار کرنا‘‘۔ آکسفورڈ ڈکشنری میں لکھا ہے: (۴) ’’مجوّزہ فیصلے کے لیے عام طریقۂ کار کے مطابق اپنی رائے یا خواہش کا اظہار کرنا، خاص طور پر جب کوئی کسی تجویز یا قرارداد یا کسی منصب کے لیے امیدوار کی منظوری یا نامنظوری کے لیے اظہار کرتا ہے‘‘۔ (۵) اردو لغت بورڈ میں ہے: ’’کسی معاملے کے فیصلے کے لیے رائے دینا، رائے دہی، عوامی نمائندوں کے انتخاب کے لیے تحریری اظہارِ رائے کی پرچی، (اردو لغت بورڈ)‘‘۔

سینیٹ کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں ایک فرد ایک ووٹ کا فارمولا نہیں ہوتا، بلکہ یہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سب سے چھوٹی اسمبلی یعنی بلوچستان میں کم تعداد میں اراکین کی حمایت سے امیدوار سینیٹر بن سکتا ہے، جبکہ سب سے بڑی اسمبلی یعنی پنجاب میں زیادہ اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس کا تعلق سینیٹ کی نشستوں اور ارکان کی تعداد پر ہے، انتخابی قوانین میں اس کا طریقۂ کار اور فارمولا درج ہے۔
اصولی طور پر دست نمائی سے سینیٹ کا انتخاب ممکن نہیں ہے، کیونکہ متناسب نمائندگی میں ایک فرد ایک سے زائد ووٹ دیتا ہے اور ترجیحی ترتیب سے اُن کے نشانات بھی مختلف ہوتے ہیں یعنی مساوی نہیں ہوتے۔ چنانچہ وزیر اعظم نے پہلے جذبات میں Show of Hands کی بات کی، مگر بعد میں ازخود آگاہ ہونے یا متوجہ کرنے پر اُن کے قانونی ماہرین کو احساس ہوا کہ دست نمائی کا طریقۂ انتخاب سینیٹ میں قابلِ عمل نہیں ہے، اس لیے پھر انہوں نے Tracable Vote کی اصطلاح استعمال کی، یعنی یہ پتا لگایا جاسکے کہ کس نے ووٹ کس کو دیا ہے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ ہر ووٹر کو نمبر لگی ہوئی ووٹ کی پرچی جاری کی جائے تاکہ بعد میں یہ معلوم کیا جاسکے کہ اُس نے ووٹ کس کو دیا ہے۔

عام طور پر اپوزیشن کا مطالبہ ہوتا ہے کہ کھلی رائے شماری ہو تاکہ ہر کوئی عَلانیہ ووٹ دے، یہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے کہا: ’’انہیں شو آف ہینڈ کے طریقۂ کار سے اصولی اختلاف نہیں ہے‘‘، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس صورتِ حال سے دوچار ہیں، اس میں خود حکومت کو اپنے ارکان کی وفاداری پر اعتماد نہیں ہے، بلکہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ خفیہ طور پر اپنے ووٹ کا سودا کرلیں گے اور قیمت وصول کریں گے، یہ اخلاقی زوال کی انتہا ہے۔ ہمارے ہاں قومی انتخابات کے موقع پرٹیلی ویژن اسکرین پر بار بار یہ سلوگن چلایا جاتا ہے: ’’اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں‘‘۔ 2002 کی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے تین امیدوار تھے، میر ظفر اللہ جمالی مرحوم تمام تر حکومتی حمایت اور وفاداریاں تبدیل کرانے کے باوجود بمشکل ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوئے، انہوں نے اپنے انتخاب پر ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’’ارکان نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیے ہیں‘‘، اس پر اُن کے مخالف امیدوار مولانا فضل الرحمن نے پھبتی کسی: ’’ارکان نے ’’ضمیر کے مطابق‘‘ ووٹ دیے ہیں، لیکن ’’جنرل احتشام ضمیر‘‘ کے مطابق دیے ہیں‘‘، واضح رہے کہ اُس وقت جنرل احتشام ضمیرآئی ایس آئی میں اہم عہدے پر فائز تھے اور اُن کی ذمے داری تھی کہ ارکان کو ادھر اُدھر سے جمع کر کے ق لیگ کے کیمپ میں لائیں۔

ضمیر کو انگریزی میں Conscience اور عربی میں ’’نفسِ لوّامہ‘‘ کہتے ہیں، لوّامہ کے معنی ہیں: ’’ملامت کرنے والا‘‘، یعنی اگرانسان سے خطا ہوجائے تو اُس کا ضمیر اُسے ملامت کرتا ہے، کچوکے لگاتا ہے، خبردار کرتا ہے، اُسے چین نہیں لینے دیتا، اللہ تعالیٰ کو نفسِ انسانی کی یہ ادا اس قدر پسند ہے کہ قرآنِ کریم کی سورۃ القیامہ آیت: 2میں اس کی قسم فرمائی ہے، اسی طرح سورۃ الشمس میں تمہید کے طور پر متعدد قسمیں فرماکر اللہ تعالیٰ نے نفسِ انسانی کی قسم فرمائی ہے: ’’سورج اور اس کی روشنی کی قسم! اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے اور دن کی جب اُسے چمکائے اور رات کی جب وہ اسے چھپائے اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم! اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی قسم! اور نفس اور اُسے درست بنانے والے کی قسم!، پھر اُس (نفس) کو اُس کی بدکاری اور پرہیزگاری میں تمیز کا شعور عطا کیا، بے شک وہ بامراد ہوا جس نے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے گناہوں سے آلودہ کردیا، (الشمس: 1-10)‘‘۔
ضمیر کا انسان کو گناہ کے ارتکاب، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرّم کی نافرمانی اور شرعی احکام کی خلاف ورزی پر ملامت کرنا اُس کے زندہ اور فعال ہونے کی علامت ہے اور اگر انسان کا ضمیر اُسے گناہ پر ملامت کرنا چھوڑ دے تو یہ اُس کے مردہ اور بے اثر ہونے کی علامت ہے، حدیث پاک میں ہے: ’’ایک شخص نے نبیؐ سے سوال کیا: گناہ کیا ہے؟، آپؐ نے فرمایا: ’’جب کوئی بات تمہارے دل میں کھٹکے تو اُسے چھوڑ دو‘‘، اُس نے پوچھا: ایمان کیا ہے ؟، آپؐ نے فرمایا: ’’جب تمہاری برائی تمہیں بری لگے اور تمہاری نیکی تمہیں اچھی لگے تو (یقین کرلوکہ) تم مومن ہو، (مسند احمد)‘‘، یعنی انسان کے ضمیر کا زندہ ہونا اور اُس کا انسان کو گناہ پر ملامت کرنا ایمان کی دلیل ہے اور اس کا بے حس ہوجانا ایمان کے لیے خطرے کی علامت ہے اور برائی پر اس کا جری ہونا اور اُس پر اظہارِ مسرّت کرنا قومِ لوط اورنافرمان امتوں کا شیوہ رہا ہے۔

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اخلاقی تنزُّل کے دور میں رہ رہے ہیں، ہمارے وہ منتخب نمائندے جنہیں پوری قوم کے لیے مثالی نمونہ ہونا چاہیے، خود اُن کی ساکھ اور اعتبار محلِّ نظر ہے، بعض عَلانیہ اور بعض پسِ پردہ وفاداریاں بدل رہے ہیں، نہ سیاسی قائدین کو اپنے ارکان پر اعتماد ہے، نہ ارکان کو اپنی قیادت پر، اس میں حکمران جماعت اور حزبِ اختلاف میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ حکمران جماعت کی فکر مندی اور حسّاسیت اپوزیشن سے بھی زیادہ ہے اور یہی چیز ہمارے نظام کے بودے پن کی علامت ہے، جو مِن حیثُ القوم ہم سب کے لیے ندامت کا باعث ہے۔

اس سے تو بہتر ہے کہ خواتین کی نشستوں کی طرح الیکٹرول کالج میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعدادکے اعتبار سے مختلف جماعتوں کو سینیٹ کا کوٹا الاٹ کردیا جائے، وہ اپنی صوابدید پر اپنے نمائندوں کے نام الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس جمع کرادیں اور الیکشن کمیشن حسبِ ترتیب وترجیح نتائج کا اعلان کردے، لیکن اس میں منتخب ارکان کی حیثیت سیاسی مزارعین سے زیادہ نہیں ہوگی، نہ کوئی اُن سے اُن کی رائے پوچھنے کی زحمت گوارا کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہوگا کہ اُس کے ووٹ کا وزن کس کے حق میں گیا، نہ کوئی اُن کے زیرِ بار احسان ہوگا۔ یہ حیثیت اُن ارکان کے لیے تو کسی نہ کسی درجے میں قابلِ قبول ہوسکتی ہے، جو کوئی ذاتی حیثیت نہیں رکھتے، اُن کی جیت صرف اور صرف پارٹی کے مرہونِ منّت ہوتی ہے، لیکن وہ ارکان جو قابلِ انتخاب کہلاتے ہیں، اُن کے لیے یہ مرحلہ کتنا اذیت ناک ہوگا، سوچنے کا مقام ہے۔

امریکا میں الیکٹرول کالج کے ووٹرکے نام مختلف ریاستوں کی آبادی کے تناسب سے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پہلے سے نامزد کردیتی ہیں اور انتخابی سال میں دسمبر کے دوسرے پیر کو وہ جمع ہوکر منتخب صدر کے حق میں رائے دیتے ہیں، لیکن ہماری طرح اُن کے سوئے ہوئے ضمیر اچانک بیدار نہیں ہوتے کہ وفاداریاں بدل لیں، پسِ پردہ نقد سودے ہوجائیں یا عہدوں کا لالچ دیدیا جائے یا رکے ہوئے ترقیاتی فنڈ جاری کردیے جائیں یا نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے اداروں کے اُن کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھ روک دیے جائیں، الغرض یہ دبائو کی مختلف صورتیں ہیں جن کا چلن ہمارے ہاں ہے، امریکا کی تاریخ میں الیکٹرول کالج کے نامزد ارکان کے وفاداری بدلنے کی ایک مثال بھی نہیں ملتی، بس وہ ایمان سے محروم ہیں اور ہم صاحبانِ ایمان ہیں، لیکن ہمارا ایمان واعتقاد قابلِ اعتماد نہیں رہا، بلکہ قابلِ فروخت جنس بن گیا ہے، فَیَا اَسَفیٰ وَیَا لَلْعَجَب!