دادو ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال شفا گھر کے بجائے موت گڑھ بن گیا

27

 

دادو (نمائندہ جسارت) دادو کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال شفا گھر کے بجائے موت گھر بن گیا ہے، ضلع بھر سے آنے والے مریضوں کو سرکاری ادویات دی جارہی ہیں اور ناہی اسپتال میں مریضوں کے چیک اپ کے لیے کوئی ڈاکٹر موجود ہے، مریض ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اسپتال میں ڈاکٹرز اور سہولیات نا ہونے کے باعث بغیر علاج کے واپس جانے پر مجبور ہیں ۔ دادو کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں سیاسی سفارشات پر مقرر ڈاکٹر اور دیگر عملہ ڈیوٹی کرنے سے قاصر، گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے لگا، اسپتال کی او پی ڈی، سرجیکل، امراض قلب، وارڈ، آنکھوں، ڈینٹل اور شعبہ حادثات میں ایک ایک ڈاکٹر مقرر ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث ضلع بھر سے آنے والے غریب مریض ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ دادو کے ڈی ایچ کیو اسپتال کے لیے کروڑوں روپے کا بجٹ ہونے کے باوجودمریضوں کو بخار کا انجکشن بھی نجی اسٹور سے خریدنا پڑتا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق اسپتال میں تمام ڈاکٹرز سیاسی سفارش کی بنا پر حاضری لگانے تک محدود ہیں جبکہ کچھ ڈاکٹر اور دیگر عملہ دس بجے حاضری لگا کر بارہ بجے رفو چکر ہوجانا روز کا معمول بن چکا ہے جبکہ شعبہ حادثات میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے دو شخص جان کی بازی ہار گئے، تاحال اس معاملے پر اسپتال انتظامیہ، ڈی ایچ او دادو اور ضلع انتظامیہ غفلت برتنے والے ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس پورے معاملے پر دادو کے سیاسی، سماجی رہنماؤں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برس سے ڈی ایچ کیو اسپتال ریفر سینٹر بنا ہوا ہے، جہاں پر آنے والے مریضوں کو علاج کی کوئی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی مرتبہ اسپتال میں سہولیات کے فقدان پر احتجاجی تحریک چلائیں مگر اب تک نا انتظامیہ اور ناہی کسی حکومتی نمائندے کے سروں پر جوں رینگی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، چیف جسٹس عدالت عظمیٰ پاکستان سمیت نیب اور دیگر حکام سے نوٹس لے کر اسپتال میں سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔