کورونا کی دوسری لہر

125

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت آگئی ہے۔ یہ ایک ایسا وبائی مرض ہے جس پر قابو پانے میں انسانی دانش اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اب تک سارا زور حفاظتی اقدامات پر ہے، قومی اور عالمی سطح پر فیصلہ سازی میں یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ سماجی اور اقتصادی زندگی کو کس حد تک بند کیا جائے۔ یہ سوال اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کورونا کی موجودہ صورت حال میں این سی او سی کے فیصلوں پر عملدرآمد لازم ہے۔ فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جاسکے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے شادی ہالوں میں تقاریب کے انعقاد کی پابندیوں کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس حوالے سے سیاسی جلسوں اور جلوسوں پر پابندی کا مسئلہ بھی زیر غور آیا۔ وفاقی حکومت نے اپنے جلسوں کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حزب اختلاف سے بھی جلسوں کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ کورونا کے حوالے سے بالائی سطح پر بھی خوف بڑھ گیا ہے کیوں کہ معروف سیاسی شخصیات بھی کورونا کا شکار ہوکر وفات پاچکی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پشاور ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور اراکین پارلیمان کی وفات کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اسی خوف کے باعث پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس سے بعض اراکین پارلیمان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے جن میں سابق وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن بھی شامل تھیں۔ ملک میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت آنے کے بعد نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی (این سی سی) نے کورونا سے بچائو کے لیے کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ این سی سی کے اعلامیے کے مطابق 300 سے زائد افراد کے تمام آئوٹ ڈور اجتماعات پر فوری پابندی ہوگی۔ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی ذمے داری اجتماع کے منتظمین پر ہوگی۔ این سی سی کا کہنا ہے کہ شادی کے لیے ان ڈور تقریبات پر پابندی ہوگی۔ اسی پابندی کے حوالے سے شادی ہالوں اور مارکیٹوں کے مالکان کی جانب سے عدالت عالیہ اسلام آباد میں درخواست دائر کی گئی تھی اور درخواست گزار کے وکیل نے کہا تھا کہ بند کرنا ہے تو سب کچھ بند کریں ورنہ ہمیں بھی اس کی اجازت دیں۔ عدالت عالیہ اسلام آباد نے کورونا کی سنگینی محسوس کرتے ہوئے این سی سی کے احکامات پر پابندی کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ان احکامات کی توثیق بھی کردی۔ دوران سماعت عدالت عالیہ اسلام آباد کے سربراہ نے وفاقی حکومت پر بھی اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود تو پابندی کر نہیں رہے ہیں، حکومت کی پالیسیوں میں تضاد ہے، جو صورت حال ہے اس میں ہمیں خود ساری چیزیں بند کردینی چاہئیں۔ اس حوالے سے ہماری اجتماعی آزمائش بڑھ گئی ہے کہ معمولات زندگی بھی جاری رہے اور کورونا کی وبا کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات بھی جاری رکھیں۔ اسٹیٹ بینک نے معاشی جائزے کی جو سالانہ رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق لاک ڈائون کی وجہ سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ پاکستانی معیشت کورونا کی وبا کی صورت حال پر واپسی کے راستے پر چل پڑی ہے۔ لیکن یہ وقفہ مختصر رہا اور پھر امتحان شروع ہوگیا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ کس طرح معاشی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال رکھنے یا تعطل دینے کی پابندی ممکن نہیں ہے۔ یورپی ممالک میں تو کورونا کے باعث عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف احتجاج بھی ہورہے ہیں۔ دنیا بھر کی معیشتیں سیکڑ رہی ہیں لیکن ابھی تک پاکستان اور اس کی معیشت غیر معمولی نقصان سے محفوظ رہی ہے۔ اگر کورونا کی لہر میں اضافہ ہوا، مریض بڑھے تو معیشت پر بھی منفی اثرات ہوں گے، جس کا اشارہ اسٹیٹ بینک کے جائزے میں دیا گیا ہے۔ یہ حکومت اور قوم کا امتحان ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل بھی کرے اور اقتصادی، تعلیمی اور سماجی زندگی مفلوج ہونے سے بھی بچی رہے۔