سربراہ ٹی ایل پی علامہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے

221

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے۔

خاندانی ذرائع کےمطابق تحریک لبیک کےسربراہ علامہ خادم رضوی طویل عرصے سے بیمار تھے جبکہ گزشتہ دنوں سے بخار میں مبتلا تھے، انہیں شیخ زید اسپتال داخل کروایا گیاتھا۔

خادم حسین رضوی کے کارکنان کی بڑی تعداد رہائش گاہ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے بھی خادم حسین رضوی کے موت کی تصدیق کرتے ہوئے دعا کی ہےکہ ‘اللہ تعالی خادم حسین رضوی کو جنت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے’، ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

خادم حسین رضوی کا تعلق ضلع اٹک سے تھا، وہ 22 جون 1966 کو ‘نکہ توت’ میں پیداہوئے۔

خادم حسین رضوی نےجہلم ودینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجویدکی تعلیم حاصل کی اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے درس نظامی کی تکمیل کی۔

سیاست میں آنے سے قبل خادم حسین لاہور میں محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب تھے، ممتاز قادری کی سزا پرعملددرآمد کے بعد انھوں نے کھل کرحکومت وقت پرتنقید کی، جس کی وجہ سے محکمہ اوقاف نے ان کو فارغ کردیا تھا۔

دینی تعلیم کے لیے ضلع جہلم چلے گئے اس وقت ان کی عمر بمشکل آٹھ سال ہی تھی اور یہ 1974 کی بات ہے۔ جب خادم حسین اکیلے جہلم پہنچے تو اس وقت تحریک ختم نبوت اپنے عروج پر تھی اور اس کی وجہ سے جلسے جلوس اور پکڑ دھکڑ کا عمل چل رہا تھا۔