پشاور کے مدرسے میں دھماکا‘8طلبہ شہید‘ 110زخمی‘ مسجد کی دیوار گرگئی

135

پشاور/اسلام آباد/ کراچی (خبر ایجنسیاں+ اسٹاف رپورٹر) صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگرآباد میں واقع مسجد سے متصل مدرسے کے مرکزی ہال میں درس قرآن کے دوران بم دھماکے میں 8 افراد شہید جبکہ بچوں سمیت 112 سے زائد زخمی ہو گئے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سیکورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں۔ عینی شاہد کے مطابق دھماکے کے وقت ایک ہزار سے 1200افراد مدرسے میں موجود تھے جبکہ درس دینے والے مولانا رحیم اللہ حقانی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 72 زخمی منتقل کیے گئے جبکہ36 زخمیوں کو نصیراللہ بابر میموریل اسپتال، 2 زخمیوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال اور 2 حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیے گئے۔ ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کے مطابق ان کے پاس 7 افراد کی لاشیں اور 72 زخمی لائے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق شہدا ء میں کوئی بچہ نہیں، شہداء کی عمریں 20 سے 30 برس کے درمیان ہیں تاہم 4 بچے زخمی ہوئے ہیں۔ترجمان ایل آر ایچ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر جھلسے ہوئے ہیں اور 10 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے دھماکا طلبہ کے درمیان ہوا جبکہ درس دینے والے مولانا رحیم اللہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے ہیں۔سی سی پی او پشاور کے مطابق دھماکے سے قبل ایک مشکوک شخص ہال میں طلبہ کے درمیان ایک بیگ رکھ کر گیا اوردھماکے سے فرش میں گڑھا پڑ گیا۔انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے باعث ایک حصے میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں مسجد کی دیوار گر گئی جبکہ کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔مدرسے میں دھماکے کے چند گھنٹے بعد ہی مسجد میں صفائی کرنے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی گئی۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق دھماکا ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جبکہ دھماکا خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا، واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی منظم طریقے سے دھماکا کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے میں 4 سے 5 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مدرسے میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت مدرسے میں ایک ہزار سے 1200 افراد موجود تھے۔عینی شاہد کے مطابق مدرسے میں دوسرا پیریڈ شروع ہونے والا تھا کہ ہال میں بیٹھے طلبہ کے درمیان اچانک دھماکا ہوا۔صدر مملکت،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت وزرا نے پشاور دھماکے کی مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ عمران خان نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ بزدلانہ حملے کے ذمے داروں کوکٹہر ے میں لائیں گے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیکورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔وزیراعلیٰ پختونخوا نے دھماکے کے متاثرین اور شہدا کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین کے لیے 5لاکھ اور زخمیوں کو 2لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ طلبہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت اور ظالمانہ اقدام ہے ۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ، مرکزی صدر اے این پی اسفند یار ولی نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی جبکہ وفاقی المدارس العربیہ پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب پاکستان میں اقوام متحدہ کے دفتر نے دھماکے کی مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ۔ترجمان ایرانی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کسی اخلاقی اور انسانی اصولوں کے پابند نہیں ۔ انہوں نے ٹوئٹر پیغام میں حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار اور حملے کی مذمت کی ہے ۔ادھر پشاورمیں بم دھماکے کے بعد آئی جی سندھ نے سندھ پولیس کو الرٹ رہنے کے احکامات جاری کردیے، سندھ پولیس کے ہر سطح کے افسران کو جاری ہدایات میںکہاگیا ہے کہ صوبائی سطح پر سیکورٹی کے تمام تر انتظامات کو مزید سخت کیاجائے، پولیس پیٹرولنگ، پکٹنگ اور رینڈم اسنیپ چیکنگ کے عمل کو مؤثر اور کامیاب بنایا جائے،ایس پیز،ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز علاقوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں،تمام مساجد،امام بارگاہوں اوردیگر اہم مقامات پر سیکورٹی کوغیرمعمولی بنایا جائے۔