سندھ حکومت شادی ہال مسمارکرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، حافظ نعیم

92

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنا پر شادی ہال نہ مسمار کیے جائیں ،پہلے ہی کورونا وائرس کی وبا میں 6ماہ سے شادی ہال بند رہے جس کے باعث شادی ہال کے مالکان کو کافی مالی نقصان کا سامنا کرناپڑا ،ہم سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شادی ہال مسمار کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے ،شادی ہال سے ہزاروںلوگوں کا روزگار وابستہ ہے ،پہلے ہی کراچی کے شہری مہنگائی اور بے روزگاری میں مبتلا ہیں اگر شادی ہال مسمار کردیے گئے تو بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا ،یہ ہال قبضے کی زمین پر نہیں ،دیکھ لیا جائے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو غلط استعمال تو نہیں کیاجارہا ،شادی ہال کے مالکان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کا موقع دیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں کراچی میرج ہال ایسوسی ایشن کے صدر رانا رئیس احمد کی قیادت میں ملاقات کے موقع پر وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرسیکرٹری کراچی عبدالوہاب ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔وفد میں منیجنگ کمیٹی کے رکن سلمان ناصر،محمد ہارون،نعمان و دیگر بھی موجود تھے۔وفد نے بتایا کہ کورنگی کراسنگ سے ناصر جمپ تک قائم 20سال سے قائم شدہ شادی ہال کو مسمار کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں حالانکہ شادی ہال کے مالکان کے پاس مالکانہ حقوق موجود ہیں اور2سال قبل مالکانہ حقوق کی تجدید بھی کرائی تھی ،کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پہلے ہی شادی ہال 6ماہ سے بند تھے اب اگر شادی ہال مسمار کردیے جائیں گے تو ہزاروں افراد بے روزگار ہوجائیں گے ۔