ریفرنڈم 21اکتوبر تک جاری رہے گا ، صرف جماعت اسلامی عوام کے ساتھ ہے‘ حافظ نعیم

68

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ’’کراچی ریفرنڈم‘‘ میں عوام کی بھر پور شرکت کے پیش نظر اور زیادہ سے زیادہ آبادی کی رائے کو شامل کرنے کے لیے ریفرنڈم کی مدت میں 3 دن کی توسیع کر دی گئی ہے‘ہم نے کمیشن کے چیئر مین انور منصور خان سے درخواست کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے ریفرنڈم کمیشن کے ارکان کے ساتھ مشورے کے بعد 3 دن کی توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے‘ کراچی ریفرنڈم اب (بدھ)21 اکتوبر تک جاری رہے گا‘ صرف جماعت اسلامی ہی کراچی کے عوام کے لیے میدان میں موجود ہے‘ باقی تمام پارٹیاں دھوکا اور فریب دے رہی ہیں‘ پیپلز پارٹی کراچی کے عوام سے مخلص ہے تو بلاول زرداری غاصبانہ لوکل باڈی ایکٹ ختم کرکے کراچی میں بااختیار شہری حکومت کا نظام نافذ کرنے کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟ ن لیگ کی مریم نواز مردم شماری میں کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کرنے کی مجرمانہ غلطی تسلیم کیوں نہیں کرتیں؟ تحریک انصاف پاکستان کراچی والوں کی بھلائی چاہتی ہے تو عمران خان کوٹا سسٹم ختم کرنے اور کراچی میں دوبارہ مردم شماری کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟ اور ان کی اتحادی اور کراچی کے ٹھیکیدار ہونے کا دعویٰ کرنے والی ایم کیو ایم ان اہم ایشوز پر خاموش کیوں ہے؟۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’کراچی ریفرنڈم‘‘ کے سلسلے میں بہادر آباد (چار مینار ) چورنگی پر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے تحت مرکزی ریفرنڈم کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا اور شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریفرنڈم کمیشن کے کمشنر ناظم ایف حاجی، کمیشن کے ممبر نعیم قریشی ایڈووکیٹ، معروف تاجر ادریس گگی، پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ اور سیکرٹری نجیب ایوبی نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی ہوئی ہے مگر کراچی کے گمبھیر مسائل اس کے ایجنڈے اور ترجیحات میں شامل نہیں ‘ اپوزیشن کی اے پی سی میں پیش کیے گئے26 نکات میں کراچی کا ذکر تک نہیں ہے‘ ایسی اپوزیشن جسے کراچی کے مسائل سے دلچسپی نہ ہو عوام اسے مسترد کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ اور ’’کراچی ریفرنڈم‘‘ کے مطالبات عوام کے مسائل کے حل کی ضمانت ہیں ‘ اس تحریک میں سب کے لیے دروازے کھلے ہیں‘ ہم سب کو ساتھ لیکر چلنے پر تیار ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ شہر بھر سے ملنے والی اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ریفرنڈم کی مدت میں توسیع کی جانی چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ’’کراچی ریفرنڈم‘‘ کسی ایک جماعت کا نہیں پورے کراچی کے عوام کا ریفرنڈم ہے‘ عوام بلا تفریق اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر اس میں شرکت کریں اور اپنی رائے اور شکایات کو حکمرانوں کے سامنے لائیں‘ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اب سمجھنا ہوگا کہ کراچی کو اس کا حق دینے کا وقت آگیا ہے‘ عوام کو بھی اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر سیاست گندے لوگوں کے لیے چھوڑ دی گئی تو یہ کبھی اچھی نہیں ہوسکتی۔ ادریس گگی نے کہا کہ پوری بزنس کمیونٹی جماعت اسلامی کی اس تحریک اور ریفرنڈم کی حمایت کرتی ہے اور حافظ نعیم الرحمن کو کراچی کے لیے جدوجہد پر سلام پیش کرتی ہے۔ نعیم قریشی ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلا برادری کراچی کے جائز حقوق کیلیے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی اور شانہ بشانہ ہوگی‘ عوام کو اپنے حقوق لینے کیلیے متحد ہونا پڑے گا۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے3 کروڑ عوام کو متحد کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ اب کراچی کے عوام کی قسمت میں مزید ذلت نہیں رہے گی‘ ان کو مسائل اور عذاب سے نجات ضرور ملے گی ۔ بہادر آباد کیمپ پر عوام میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ کیمپ پر قومی ترانہ بھی پڑھا گیا اور حافظ نعیم الرحمن نے مارکیٹوں میں دکانداروں سے ملاقاتیں کیں ‘ ان سے ریفرنڈم کے بیلٹ پیپرز بھی بھروائے۔ کیمپ پر بھی شہریوں نے بیلٹ بھر کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ممتاز شاعر سعد اللہ سعد، طاہر سلطان پرفیوم والا، ریاض احمد جوئیہ، انجینئر سلیم اطہر، بابر خان، عمر خان، جعفر کوڑیا، فاروق پونا والا، جنید مکاتی، نصیر اللہ حسینی، طارق جمیل، عمران شاہد اور دیگر کے علاوہ خواتین بھی موجود تھیں۔