پی ڈی ایم جلسہ2018ء میں کراچی سے مسترد کیے جانے والوں کا اجتماع تھا

125

کراچی (تجزیہ: محمد انور) پی ڈی ایم کا کراچی میں اتوار کو ہونے والا اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ مجموعی طور پر صرف بے ہنگم اور بدنظمی کی عکاسی کررہا تھا، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی کے بہت سے کارکن اپنے رہنماؤں کی تقاریر سننے کی خواہش میں تھک کر بغیر انہیں سنے گھروں کو لوٹ گئے۔یہ جلسہ دراصل ملک کی ان 11 سیاسی جماعتوں کا پاور شو تھا جنہیں 2018 ء کے انتخابات میں کراچی کے لوگوں نے مسترد کردیا تھا اور متعدد کراچی کے لوگ ان جماعتوں سے بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے شاید یہی وجہ ہے کہ اس اجتماع میں نظر آنے والے لوگوں اور رہنما بھی کی اکثریت کا تعلق شہر سے نہیں تھا۔ مزار قائد کے جناح گرائونڈ میں ہونے والا پی ڈی ایم کا یہ جلسہ اس بات کا اظہار تھا کہ جلسے میں میزبان پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماؤں کی حاضری بھی غیر معمولی کم تھی اس کی وجہ پیپلز پارٹی ہی بیان کرسکتے ہیں۔ اس جلسے میں باشعور لوگوں کے بجائے کرائے پر لائے گئے افراد کی تعداد واضح تھی۔ ایک ٹی وی چینل نے اپنی لائیو نشریات میں جلسے میں شریک افراد سے جب پی ڈی ایم کے بارے میں سوال کیا تو بیشتر اس کا مطلب اور بہت نے بانی کا نام تک نہیں بتاسکے۔ پی ڈی ایم کے کراچی کے جلسے میں میزبان پیپلز پارٹی کے پرچم اٹھائے وہ لوگ زیادہ تھے جو اندرون سندھ سے لائے گئے تھے۔ آزادانہ تجزیے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے اس اجتماع سے کراچی کے باشعور اور سیاسی ذہن رکھنے والے افراد لاتعلق رہے ۔ جبکہ اس شو اس بات کا بھی اظہار کردیا کہ کراچی ہی کیا پورے صوبے کے لوگوں کو پی ڈی ایم کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، یہ اور بات ہے کہ جلسے میں تقریباً 35 ہزار افراد کی موجودگی کا منتظمین کی طرف سے دعویٰ کیا جاتا رہا۔