پاکستان بھارت کیخلاف امریکی جریدے کی رپورٹ کو قانونی رپورٹ میں تبدیل کرائے، دفاعی سفارتی سیاسی تجزیہ کار

92

کراچی (رپورٹ /محمد علی فاروق ) ‘‘فارن پالیسی ‘‘جریدے میںبھارتی دہشت گردی کے حوالے سے رپورٹ شائع کراکے امریکا کی جانب سے بھارت کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ہر معاملے میںاس کا ساتھ نہیں دے سکتا ہے ،پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس پبلک رپورٹ کو قانونی رپورٹ میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے سفارتخانوں کو متحرک کرے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ میں قرارداد لے کر آئے ۔ان خیالات کا اظہارائروائس مارشل (ر)شاہد لطیف ،بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط ،معروف سفارتکار شاہد امین، جمیل احمد خان اور جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹرمعراج الہدیٰ صدیقی نے روزنامہ جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ائروائس مارشل (ر)شاہد لطیف نے کہا کہ ہم نے امریکا کے ساتھ دوستی کا مزا چکھ لیا ہے ،یہ دوستی کبھی بھی دیرپا نہیں رہی ہے ،اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت کبھی ہمارے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا ہے ،جس طرح چین ہرمعاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے بھارت چاہتا ہے کہ امریکا بھی اس کے ساتھ اسی طرح کھڑا رہے لیکن ’’فارن پالیسی‘‘ میں رپورٹ شائع کراکے امریکا کی جانب سے بھارت کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ہر معاملے میں اس کا ساتھ نہیں دے سکتا ہے۔بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ بھارت کی عالمی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے موجود ہیں ،یہ بات خوش آئند ہے کہ اب اس کی یہ دہشت گردی دنیا کے سامنے آرہی ہے ۔امریکی جریدے میں بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے رپورٹ ایک نئی پیش رفت ہے ۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے ،مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں فوجی تعینات کرکے کشمیریوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ عملکئی دہائیوں سے جاری ہے،اسی طرح پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی بھارت ملوث ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کے حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو کی پاکستان سے گرفتاری ہے ،جس نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ بھارت ایک فاشسٹ ریاست ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے ۔دنیا کو امریکی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔عبدالباسط نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان پر تو اپنا دباؤ بڑھاتا ہے لیکن بھارت کی جانب اس نے نظریں بند کی ہوئی ہیں ۔بھارتی بینکس نہ صرف منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں بلکہ یہ رقوم دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی دہشت گردی میں استعمال کی جاتی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہونے کے حوالے سے بھارت ایک آئیڈیل ملک ہے۔ معروف سفارتکار شاہد امین نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے ہیں کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی ہے کیونکہ بھارت اور داعش کے نظریات میں زمین آسمان فرق ہے تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بھارت پاکستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر یہ رپورٹ یہ حقائق پر مبنی ہے تو اس پر یقیناً امریکا کو بھی تشویش ہوگی کیونکہ امریکا بھی داعش کی سوچ کے خلاف ہے،امریکا افغانستان سے نکلنے کے لیے اس بات کی ضمانت لے رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو داعش کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ بھارت اور داعش کا گٹھ جوڑ قبول کرلے، اگر یہ رپورٹ درست ہے تو امریکا کی جانب سے بھارت پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے اوروہ اس کو باور کرائے گا کہ اس کی یہ پالیسی کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹرمعراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ امریکی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ امریکا کی جانب سے بھارت کو کوئی پیغام ہے ۔جریدے کی رپورٹ کا امریکا کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ امریکی حکومت اور عوام کی سوچ بہت مختلف ہے ،اگر دنیا کو محفوظ بنانا ہے تو ہمیں دہشت گردی سے جان چھڑانا ہوگی، بھارت پوری دنیا میں دہشت گردی کراتا رہا ہے،امریکا کی بھارت کے حوالے سے مستقبل میں کیا پالیسی بنتی ہے اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج اور چینی سفارتخانے پر حملے میں بھارت ملوث تھا اور اس کے واضح ثبوت موجود ہیں ،بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی گرفتاری نے بھی اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ بھارت پاکستان میں بدامنی کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کررہا ہے۔معراج الہدیٰ نے یہ بھی کہا کہ بھارت خود اقلیتیوں کے حوالے سے ایک غیر محفوظ ملک ہے،وہاں اقلیتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے ۔اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ اور اس کی عالمی دہشت گردی کے حوالے سے اقدامات کرے ۔معروف سفارت کار جمیل احمد خان نے کہا کہ کسی بھی پرنٹ میڈیا یا الیکٹرونک میڈیا کی خبر عوامی سفارت کاری کے زمرے میں آتی ہے ۔اس کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کچھ ممالک یا متاثرہ ممالک اس پبلک رپورٹ کو لیگل ڈپلومیسی کے پیرائے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب متاثرہ ممالک دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں کہ یہ رپورٹ درست ہے ۔انہوںنے کہا کہ امریکی جریدے میں بھارت کی دہشت گردی کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹکا فائدہ اٹھانا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی توجہ ایسے مذموم واقعات کی طرف کرائے اور اس کے نتیجے میں جنرل اسمبلی یا سیکورٹی کونسل میں قرارداد بھی لائی جاسکتی ہے تاکہ بھارت اور اس جیسے ممالک کے خلاف کارروائی کی جاسکے ۔انہوںنے کہا کہ بھارت جو دہشت گردی کرارہاہے اس پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر 6اور 7کے تحت پابندی لگوائی جاسکتی ہے ۔اس کے لیے پاکستانی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔