ایمان اور اعمال صالحہ

130

ارشادِ ربانی ہے: ’’آپ ان لوگوں کو خوش خبری سنا دیجیے جو ایمان لائے اور عمل صالح کیے کہ یقیناً ان کے لیے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں‘‘۔ (سورۃ البقرہ 25) انسان کی فلاح و کامرانی دو چیزوں پر موقوف ہے: (1) ایمان (2) اعمال صالحہ۔ گویا اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دنیاوی زندگی اور حیاتِ اخروی دونوں کامیاب ہوجائیں تو اس کے لیے لازم شرط ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے مالک و خالق پر بن دیکھے ایمان لائے اور دیگر تمام معبودان باطلہ سے دامن جھٹک کر خالص اللہ مالک الملک کی ذات و صفات کا اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق شعور و ادراک حاصل کرے، جس کے اظہار اور معرفت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرامؑ دنیا میں تشریف لائے۔ بالخصوص ہمارے پیارے نبی سیدنا محمدؐ نے اس کائنات ہست و بود میں تشریف لا کر انسانیت کو ایمان کی حلاوت سے آشنا کیا اور بندوں کا اپنے رب کے ساتھ تعلق استوار کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سید المرسلین محمدؐ کی زبان اطہر سے یہ اعلان کروایا کہ آپؐ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے کہ جو ایمان لائے یعنی اللہ پر، اس کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں، قضا و قدر اور روز قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور دنیا میں کیے گئے اعمال کی جوابدہی و احتساب پر کہ وہ ان تمام امور پر صدق دل سے یقین کامل رکھتے ہوئے اعمال صالحہ بجا لاتے رہے اور اس بات کا احساس ان کے قلوب و اذہان میں جاگزیں رہا کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ایمان کی شرط کے ساتھ نیک اعمال کی انجام دہی میں مصروف رہے اور بری باتوں اور برے کاموں سے بچتے رہے۔ جو اللہ کی ناراضی و غضب کا سبب بنتے ہیں، یعنی وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتے، جس سے معاشرے کے انفرادی و اجتماعی مفاد پر ضرب پڑتی ہو یا کسی قسم کی بے ہودگی، بے حیائی، اور انارکی پھیلتی ہو، بلکہ وہ ساری زندگی پاکیزگی، خیر اور بھلائی کے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔
عمل صالح کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس کے اندر انسانی اعمال خیر کے تمام گوشے اور جزئیات شامل ہیں، ہر قسم کے نیک اور اچھے کام داخل ہیں۔ جیسے سچائی، پاکبازی، دیانت داری، امانت داری، شرم و حیا، عدل و انصاف، حلم و بردباری، رحم و کرم، تواضع و خاکساری، احسان، عفو ودرگزر، ایثار، اخلاص، مودّت و محبت، مہمان نوازی، تیمارداری، بیوائوں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، حاجت مندوں کی حاجت روائی، اللہ کی مخلوق کی خدمت اور خالق کی عبادت وغیرہ سب اعمال صالحہ کی مختلف شاخیں ہیں۔ غرض ہر وہ نیک کام جو خالصتاً اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا جائے وہ اعمال صالحہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ کسی کی شکل و صورت حسب و نسب اور مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ ایمان تقویٰ اور اعمال صالحہ ہی کو دیکھتا ہے جو بھی ان دونوںخوبیوں سے متصف ہوگا وہی اللہ کا پیارا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے، ترجمہ: اور جو مرد یا عورتیں کچھ نیک کام کریں، بشرط کہ وہ مومن ہوں تو وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پررائی برابر ظلم نہ ہوگا۔ (النساء 124) اسی طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ ترجمہ: جسے اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے عمل صالح کرنا چاہیے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ (الکہف 110)
اسی طرح دیگر مقامات پر ایمان اور اعمال صالحہ کے التزام کو واضح کرتے ہوئے ارشادات ربانی یوں ہماری رہنمائی فرماتے ہیں۔ ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں اور اچھے اچھے کام کیے ہیں، یہی لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ (البقرہ 82) ترجمہ: تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے اور نماز کو قائم کیا اور زکوٰۃ ادا کی ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر (ثواب) ہے اور نہ انہیں خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔ (البقرہ 277)
یہ دنیا دارالعمل ہے، اس مختصر سی زندگی میں اگر انسان آخرت کی لامتناہی اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ابدی حیات کی فوز وفلاح اور کامیابی و کامرانی کا خواہاں ہے تو پھر لازمی طور پر اسے ایمان اور اعمال صالحہ کی شرط پوری کرنی ہی ہوگی۔ بصورت دیگر اللہ ورسولؐ کی بغاوت و نافرمانی اور اعمال و اخلاق کی پراگندگی والی من چاہی زندگی گزارتا رہا تو پھر آخرت کے نقصان و تباہی سے دوچار ہونا اس کا مقدر ٹھہرے گا اور مرنے کے بعد پھر واپس دنیا میں آ کر ایمان و اعمال صالحہ والی زندگی گزارنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔